انسداد گئو کشی قانون کے تحت ریاست میں پہلا معاملہ کیا گیا درج
01:36PM Sat 9 Jan, 2021
چکمگلورو: 9 جنوری،2021 (ذرائع) متنازعہ انسداد گئو کشی قانون کو ریاست کرناٹک میں آر ڈنینس کے ذریعے نافذ کیے جانے کے بعد ریاست کے چکمگلورو ضلع میں جمعہ کے دن اس سلسلہ میں پہلا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق جمعہ کی صبح دو لاریوں میں 34 جانور غیر قانونی طور پر داونگیرے کے رانی بنور سے مینگلورو لائے جارہے تھے کہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے انہیں چیک پوسٹ کے پاس روک دیا ۔ جس کے بعد ایک لاری ڈارئیور وہاں سے فرار ہوگیا جبکہ دوسری لاری کا ڈرائیور بھیڑ کے ہتھے چڑھ گیا جس پر بھیڑ نے حملہ کردیا ۔ جس کے بعد پولس نے معاملہ ہاتھ میں لیتے ہوئے دونوں ڈرائیور وں کے تعلق سے دو الگ الگ معاملے درج کیے۔
اس دوران بھیڑ کے ہاتھوں زخمی ڈرائیور عابد علی کو سرنگیری سرکاری اسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ریاست میں انسداد گئو کشی قانون کے نفاذ کے بعد یہ پہلا معاملہ ہے جو پولس تھانہ میں درج ہوا ہے۔اس متنازعہ قانون کے تحت گئو کشی اور اس مقصد کے لیے جانوروں کی سپلائی بھی ممنوع ہے، اگر یہ معاملہ ثابت ہوجاتا ہے تو ڈرائیور کو پانچ لاکھ تک کے جرمانہ کے ساتھ تین سے سات سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔
منگلورو کےتھوکٹو میں دو بیف کی دکانیں نذر آتش: مینگلور کےتھوکٹو کے والاپیٹےعلاقے سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں شرپسندوں نے دو بیف کی دکانو کو آگ لگادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ہندوتوا وادی تنظیموں نے محکمہ پولیس اور الال میونسپل کمشنر سے مانگ کی تھی کہ ان دکانوں کو وہاں سے ہٹا دیا جائے۔لیکن کارروائی نہ ہونے کے سبب قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے شر پسندوں نے دکانوں کو جلا دیا ہے۔