کسانوں نے کہا : کل پورے دن رہے گا بند ، تین بجے تک کریں گے چکہ جام
02:53PM Mon 7 Dec, 2020
مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف مسلسل کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ ہفتہ کو مرکزی حکومت اورکسانوں کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت بے نتیجہ رہنے کے بعد کسانوں نے آٹھ دسمبر کو بھارت بند کی کال دی ہے ۔ کسان لیڈر نربھئے سنگھ نے بھارت بند پر بولتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتجاج صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے ۔ کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹوڈو جیسے دنیا بھر کے لیڈران بھی ہمیں اپنی حمایت دے رہے ہیں ۔ ہمارا احتجاج پرامن ہے ۔
وہیں کسان لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے کہا کہ کل پورے دن بھارت بند رکھا جائے گا ۔ دوپہر تین بجے تک چکہ جام رہے گا ، لیکن یہ ایک پرامن بند ہوگا ۔ سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ بھارت بند کی حمایت کئے جانے پر پال نے کہا کہ ہم اپنے اسٹیج پر کسی بھی سیاسی لیڈر کو اجازت نہیں دینے پر قائم ہیں ۔
وہیں لدھیانہ سے پردھان پنجاب ٹرانپسورٹ ایسوسی ایشن کے چرنجیت سنگھ لوہارا نے کہا کہ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس نے کسانوں کی حمایت میں آٹھ دسمبر کو چکہ جام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹرانسپورٹ یونین ، ٹرک یونین ، ٹیمپو یونین سبھی نے بند کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بند پور ہندوستان میں ہوگا ۔
بھارت بند کی مکمل حمایت کریں گے : راہل گاندھی
ادھر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے اور اس ظلم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، اسی لئے ان کی پارٹی 8 دسمبر کو احتجاجی کسانوں کے ملک گیر بند کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں کے مفاد کو نظرانداز کررہی ہے اور صرف بڑے سرمایہ داروں کی مدد کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ یہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے، اس لیے ملک کے 'ان داتا' کسانوں کی حمایت میں سب کو کھڑا ہونا ضروری ہے۔
راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ " 8 دسمبر کو کسان انقلاب کی حمایت میں پرامن 'بھارت بند'ہے۔ ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے۔ ملک کے کسانوں پر ظلم اور ناانصافی ناقابل برداشت ہے۔ 'اڈانی-امبانی زراعتی قانون' واپس لو"۔ انہوں نے احتجاجی کسانوں کے ساتھ مارپیٹ کی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے، جس میں انہوں نے ملک کے تمام باشندوں سے 'بھارت بند' کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔
نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ