بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں دوسرے دن بھی طوفان ٹاوکٹے سے تباہی ہے جاری: تیز ہواؤں سے گھر وں کی چھتوں اور الیکٹرک کھمبوں کا بھاری نقصان۔ عام زندگی مفلوج
03:18PM Sun 16 May, 2021
بھٹکل: 16 مئی،2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) کرناٹک کے ساحل سے کل سنیچر کی صبح ٹکرانے والے طوفان ٹاؤکٹے کا اثر آج بھی بھٹکل سمیت کرناٹک کے ساحلی اضلاع میں جاری ہے۔ طوفان کی وجہ سے سمندر میں پیدا طغیانی کیفیت کی وجہ سے جہاں سمندر کنارے رہنے والوں میں خوف پھیلا ہوا ہے وہیں تیز و تند ہواؤں کے نتیجے میں کچے مکانوں کی چھتیں اڑنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں اور بارش کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ بے قابو ہوتی ہوئی سمندر ی لہروں کو دیکھ کر جالی اور بندر کے سمندر کنارے رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ اس تعلق سے فی الحال دو ریلیف سینٹربھی قائم کیے گئے ہیں۔
60 سے 70 کیلو میٹر کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں کے نتیجے میں برقی کھمبوں کے گرجانے کی وجہ سے ہیسکام محکمہ کو کافی نقصان ہوا ہے اور بجلی کی سپلائی بھی بار بار متاثر ہورہی ہے ۔ ہیسکام سے ملی اطلاع کے مطابق اب تک 13 بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے ہیں جبکہ 4 ٹرانسفارمرس بھی خراب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو کل ایک دن کے اندر ہی 4.48 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بھٹکل میں سنیچر کو رات بھر بجلی منقطع رہنے کے بعد آج اتوار صبح 11 بجے کے آس پاس دوبارہ بجلی بحال ہوئی ہے، تاہم چند علاقوں میں ٹرانسفارمر پر درخت یا گھر کی چھت گرنے سے شام تک بھی بجلی کی سپلائی متاثر رہی ۔
ادھر تعلقہ کے مشہور سیاحتی مقام مرڈیشور ساحل پر بھی طوفان نے تباہی مچادی ہے، سمندری لہروں کے زور نے قریب میں موجود کئی باکڑوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیا جس سے باکڑے پانی میں تیرتے نظر آرہے ہیں۔
اس دوران طوفان کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک سمیت سرکاری افسران بھی موقع پر پہنچ رہے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔ جبکہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی حالات پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔ خیال رہے کہ کل جالی کوڈی میں سمندر ی موجوں سے کشتیاں نکالنے کے دوران ایک ماہی گیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا جس کی شناخت لکشمن ایرپا نائک کی حیثیت سے کی گئی تھی۔
غرض کورونا کرفیو کے دوران جاری اس طوفان نے لوگوں کو اپنے گھروں میں ہی رکنے پر مجبور کردیا ہے جس سے عام زندگی کافی متاثر ہوتی نظر آرہی ہے۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق یہ طوفان 18 مئی تک جاری رہے گا جو کہ کرناٹکا سے گزر کر گوا اور مہاراشٹرا سے ہوتا ہوا گجرات تک جائے گا اور وہاں سے کراچی کی طرف بڑھے گا۔
60 سے 70 کیلو میٹر کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں کے نتیجے میں برقی کھمبوں کے گرجانے کی وجہ سے ہیسکام محکمہ کو کافی نقصان ہوا ہے اور بجلی کی سپلائی بھی بار بار متاثر ہورہی ہے ۔ ہیسکام سے ملی اطلاع کے مطابق اب تک 13 بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے ہیں جبکہ 4 ٹرانسفارمرس بھی خراب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو کل ایک دن کے اندر ہی 4.48 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بھٹکل میں سنیچر کو رات بھر بجلی منقطع رہنے کے بعد آج اتوار صبح 11 بجے کے آس پاس دوبارہ بجلی بحال ہوئی ہے، تاہم چند علاقوں میں ٹرانسفارمر پر درخت یا گھر کی چھت گرنے سے شام تک بھی بجلی کی سپلائی متاثر رہی ۔
ادھر تعلقہ کے مشہور سیاحتی مقام مرڈیشور ساحل پر بھی طوفان نے تباہی مچادی ہے، سمندری لہروں کے زور نے قریب میں موجود کئی باکڑوں کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیا جس سے باکڑے پانی میں تیرتے نظر آرہے ہیں۔
اس دوران طوفان کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک سمیت سرکاری افسران بھی موقع پر پہنچ رہے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔ جبکہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی حالات پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔ خیال رہے کہ کل جالی کوڈی میں سمندر ی موجوں سے کشتیاں نکالنے کے دوران ایک ماہی گیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا جس کی شناخت لکشمن ایرپا نائک کی حیثیت سے کی گئی تھی۔
غرض کورونا کرفیو کے دوران جاری اس طوفان نے لوگوں کو اپنے گھروں میں ہی رکنے پر مجبور کردیا ہے جس سے عام زندگی کافی متاثر ہوتی نظر آرہی ہے۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق یہ طوفان 18 مئی تک جاری رہے گا جو کہ کرناٹکا سے گزر کر گوا اور مہاراشٹرا سے ہوتا ہوا گجرات تک جائے گا اور وہاں سے کراچی کی طرف بڑھے گا۔