BJP protests over 'Murin Katte' demolition
06:32PM Fri 29 May, 2026
بھٹکل: 29 مئی، 2026 (بھٹکلیس نیوز بیورو) نوائط کالونی میں نیشنل ہائی وے کے کنارے تعمیر ہورہے متنازعہ ’’مورین کٹے‘‘ کو ہٹائے جانے کے خلاف آج جمعہ کے روز بی جے پی کی جانب سے بھٹکل میں ایک زبردست احتجاج کا انعقاد کیا گیا۔ اس احتجاج میں کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر۔ اشوک، اتر کنڑا کے رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری اور ضلع بھر کے متعدد بی جے پی رہنما شریک تھے۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آر۔ اشوک نے ریاستی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہندو مذہبی مقامات اور عوامی جذبات کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے ’’مورین کٹے‘‘ کو منہدم کیے جانے پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے پولیس حکام سے رابطہ کرکے فوری کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ آر۔ اشوک کے مطابق صرف گرفتاری کافی نہیں ہے بلکہ ایسے عناصر کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے سماج میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی معاملات میں یکساں رویہ اختیار نہ کرنے سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
آر۔ اشوک نے کہا کہ بی جے پی کسی بھی صورت قانون ہاتھ میں لینے کی حامی نہیں، لیکن مذہبی عقائد، قومی وقار اور ثقافتی اقدار کے تحفظ کے لیے جمہوری انداز میں احتجاج جاری رکھنے کے لیے بی جے پی کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقررہ وقت کے اندر ’’مورین کٹے‘‘ کی دوبارہ تعمیر مکمل کی جائے، بصورتِ دیگر وہ اور بی جے پی لیڈران خود اس کی تعمیر کے لیے آگے آئیں گے۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بھی غیرقانونی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن ریاستی حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت ایسے معاملات پر سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس موقع پر رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری نے کہا کہ ہندو عبادت گاہوں اور مذہبی عقائد کے خلاف اس طرح کے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’مورین کٹے‘‘ کی بحالی تک احتجاج اور جدوجہد جاری رہے گی۔
احتجاجی ریلی اولڈ بس اسٹینڈ سے شروع ہوئی اور نیشنل ہائی وے کے راستے منی ودھان سودھا تک پہنچی۔ اس دوران بی جے پی کارکنان نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور ’’مورین کٹے‘‘ کی تعمیرِ نو کا مطالبہ کیا۔
ریلی اور احتجاج میں سابق رکنِ اسمبلی سنیل نائک، سابق وزیر شیوانند نائک، روپالی نائک، سنیل ہیگڑے، گوندا نائک اور بی جے پی ضلع صدر این۔ ایس۔ ہیگڑے سمیت کئی دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ آخر میں ضلع کی ڈپٹی کمشنر کے۔ لکشمی پریا کو ایک یادداشت پیش کی گئی۔