موہن بھاگوت نے کہا : ہندو کبھی ہندوستان مخالف نہیں ہوسکتا ، اویسی نے پوچھا : گوڈسے کیا تھا؟

03:35PM Sat 2 Jan, 2021

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ سنچالک موہن بھاگوت نے جمعہ کو کہا کہ اگر کوئی ہندو ہے تب وہ محب وطن ہوگا اور یہ اس کا بنیادی کیریکٹر اور نیچر ہے ۔ سنگھ سربراہ نے مہاتما گاندھی کے اس تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حب الوطنی کی جڑ ان کے مذہب میں ہے ۔ وہیں موہن بھاگوت کے اس بیان کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد سے لوک سبھا رکن اسد الدین اویسی نے ٹویٹ کرکے ان پر پلٹ وار کیا ۔ اویسی نے ٹویٹ میں لکھا : کیا بھاگوت جواب دیں گے ، گاندھی جی کا قاتل گوڈسے کے بارے میں کیا کہنا ہے ؟ نیلی قتل عام ، 1984 سکھ مخالف فسادات اور 2002 گجرات قتل عام کے ذمہ دار لوگوں کیلئے کیا کہنا ہے ؟ اویسی نے اگلے ٹویٹ میں لکھا : ایک مذہب کے ماننے والے کو اپنے آپ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جارہا ہے اور جبکہ دوسرے کو اپنی پوری زندگی یہ ثابت کرنے میں گزارنی پڑتی ہے کہ اس کو یہاں رہنے اور خود کو ہندوستانی کہلانے کا حق ہے ۔ دراصل جے کے بجاج اور ایم ڈی شرینواس کی لکھی کتاب میکنگ آف اے ہندو پیٹریٹ : بیک گراونڈ آف گاندھی جی ہند سوراج کا اجرا کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ کتاب کے نام اور میرے اس کے اجرا کرنے سے قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ یہ گاندھی جی کو اپنے حساب سے متعارف کرنے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عظیم شخصیات کی کوئی اپنے حساب سے تعریف نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب جامع ریسرچ پر مبنی ہے اور جن کو اس سے اختلاف رائے ہے وہ بھی ریسرچ کرکے لکھ سکتے ہیں ۔