ویکسین پالیسی پردوبارہ غورکریں، وائرس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن ہوسکتاہے ضروری، سپریم کورٹ کی مرکزکو ہدایت

10:44AM Mon 3 May, 2021

سپریم کورٹ (Supreme Court) نے اتوار کو مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ویکسین کی خریداری کی پالیسی پر نظر ثانی کرے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے عوام کے حق صحت کو نقصان پہنچے گا جو آئین کے دفعہ 21 کا لازمی عنصر ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں پر بھی زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے مفاد میں دوسری لہر کے دوران وائرس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن لگانے پر غور کیا جائے۔سپریم کورٹ میں لاک ڈاؤن کے بارے میں جسٹس ڈی وائی چندراچھود(DY Chandrachud)، ایل ناگیشورا راؤ (L Nageswara Rao) اور ایس رویندر بھٹ (S Ravindra) کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم خاص طور پر پسماندہ طبقات پر سناجی اور معاشی اثرات کے بارے میں جانتے ہیں۔ اگر لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے تو ان برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پہلے سے انتظامات کرنا ضروری ہے‘‘۔ پورٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کسی کو بھی مقامی رہائشی ثبوت یا آئڈینٹی کارڈ کی کمی کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے یا ضروری ادویات سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ بنچ نے مرکز سے دو ہفتوں کے اندر اندر ہسپتالوں میں داخلے کے بارے میں ایک قومی پالیسی وضع کرنے کو کہا ہے۔ جس کے بعد تمام ریاستوں کو عمل پیرا ہونا چاہئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز نے 20 اپریل کو اپنی ویکسین پالیسی میں ترمیم کی تھی اور کہا تھا کہ وہ صرف 50 فیصد پیداوار خریدے گا اور ویکسین بنانے والوں کو 50 فیصد براہ راست ریاستوں اور نجی اداروں کو زیادہ قیمتوں پر فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔ تینوں جسٹس کے بنچ نے مشورہ دیا کہ ویکسینس کی خریداری کو مرکزی حیثیت دی جائے اور ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ویکسینس کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ دفعہ21 کے تحت حق زندگی (جس میں حق صحت بھی شامل ہے) کے مطابق مرکزی حکومت کو تمام ویکسین خریدنے اور ٹیکہ سازوں کے ساتھ مناسب قیمت پر بات چیت کرنا ہوگا۔ ایک بار جب ریاستی حکومت کو ویکسین کی مقدار مختص کردی جاتی ہے تو اس کی عوام تک تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ اس میں نظرثانی شدہ ویکسین پالیسی (revised vaccine policy) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مناسب حد تک ریاستوں کو مقابلہ کو فروغ دینے اور نئی ویکسین تیار کرنے والوں ویکسین مینوفیکچررز سے بات کرنی ہوگی، لیکن اس کے بجائے ان پر دباو ڈالنا اور ویکیسن کی معیار کے بجائے مقدار پر زیادہ توجہ دینا یا انھیں کسی بھی طرح مجبور کرنا ممکنہ طور پر 18 تا 44 برس کی عمر کے افراد کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔