مولانا عبدالمتین منیری کی کتاب ‘ایک مختصر علمی سفر ‘کا علما و دانشوران کے ہاتھوں اجرا
12:31PM Wed 6 Jan, 2021
سہارن پور: 6 جنوری ، 2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) آج یہاں ضلع کے صدر مقام سے تیس کلومیٹر دور جامعہ رحمت الفت نگر گھگرولی میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام چینل کی دنیا میں مشہور گروپ ’’علم وکتاب“ کے کامیابی کے چارسال پورے ہونے اور اس کے نگران اعلیٰ مولانا عبدالمتین منیری بھٹکلی کے دہلی و اطراف کے ایک مختصر علمی سفر کی رونمائی کے موقعہ پر شاندار تقریب منعقد ہوئی، جس میں علم وکتاب سے وابستہ معروف دینی و عصری جامعات کے اساتذہ واہل دانش نے شرکت کی۔
قاری محمد اسجدجامعى استاذ کی تلاوت اور مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ناظم وکنوینر کی نعت و خیرمقدمی کلمات سے باضابطہ پروگرام شروع ہوا ، بعدازاں علم و کتاب کے گروپ ایڈیٹر مفتی محمد ساجد کُھجناوری نے انعقادِ تقریب کی غرض وغایت کے ذیل میں سوشل میڈیا کے جائز اور ضروری استعمال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے علم وکتاب کوافادہ و استفادہ کا ایک سنجیدہ فورم بتایا ، انہوں نے اس موقعہ پر گروپ کے بانی اور معروف علمی شخصیت مولانا عبدالمتین منیری کا پیغام بھی پڑھ کرسنایا جس میں علم و کتاب کے تعارف واہداف، اہلِ علم کی توجہات اور سنجیدہ مطالعاتی کوششوں کا ذکر شامل تھا۔ دریں اثنا مولانا منیری کے سفرنامہ اور مغیثی کیلنڈر 2021 کی رونمائی بھی عمل میں آئی۔
اس موقعہ پر اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے مشہور خاکہ نویس مولانانسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ ہمیں علم و مطالعہ کے فروغ کی ممکنہ کاوشوں اور ترجیحات کے تعین سے گریزاں نہیں ہونا چاہیے،اب جبکہ مقتدر علمی شخصیات کا کال پڑ رہا ہے اور دانش و فکر کے حقیقی سرچشمے خشک ہوا چاہتے ہیں تو نئی نسل کی راست تعلیم و تربیت کا مسئلہ بڑا اہم ہوجاتا ہے، خوشی کی بات ہے کہ مولانا منیری اپنی بساط بھر کوششوں سے فیضان و افادے کی صدا لگا رہے ہیں، کوئی شبہ نہیں کہ ان کے ہاں علم وحقائق اور مشاہدات واحساسات کا ایک جہان آباد ہے جس کا اندازہ اس تازہ سفرنامہ سے بھی ہوتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے استاذ مفتی اشرف عباس قاسمی نے کہا کہ یوں تو سفر نامہ کی تاریخ صدیوں کا سفر طے کرچکی ہے لیکن اردو میں بھی سفرنامہ کی روایت اب کافی پرانی ہوگئی ہے، بازارِ علم میں بے شمار نئے پرانے سفرنامے دستیاب ہیں جن کی اپنی خصوصیات ہیں، مولانا منیری کا یہ سفر نامہ گو مختصر ہے لیکن اپنی جامعیت کے لحاظ سے خوب سے خوب تر کا مصداق ہے۔
عربی و انگریزی کے موقر مترجم مولانا انوار خان قاسمی نے بہت شرح وتحقیق سے قدیم و جدید سفرنویسوں اور ان کے سفرناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ علمی سفر کرنے کے عموماً تین مقاصد ہوا کرتے ہیں، جغرافیائی کنڈیشن، تاریخی معلومات کی فراہمی اور سماجی احوال سفرى سرگزشت اگر ان اجزاء سے عبارت ہو تو پھر اسے بہترین سفرنامہ قرار دیا جائے گا،لہٰذا یہ سفرنامہ بھی اپنے اندر قاری کےلیے بہت کچھ سامان رکھتا ہے۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے مؤقر استاذ اور مفتی مولانا امانت علی قاسمی نے کہا کہ نئی نسل کو کتابوں سے جوڑنے کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا سے بھی روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اسی طرح سوشل میڈیا میں بے ہنگم مواد کے بڑھتے سیلاب، کتابوں اور مضامین کے بے پناہ ریلے نے علم وتحقیق کی شبیہ دھومل کرکے رکھ دى ہے، ایسے حالات میں علم و کتاب جیسے سنجیدہ واٹس ایپ حلقے خوش گوار اثر چھوڑ سکتے ہیں۔
مظاہرعلوم وقف سہارن پور کے استاذ اور آئینہ مظاہر کے مدیر مفتی ناصرالدین مظاہری نے کہا کہ ہمیں اپنے فکر و عقیدہ اور ایمانیات پر کسی قسم کی آنچ آئے بغیر جدید وسائل ضرورت سے استفادہ کی ترکیبیں سوچنا چاہیے،مجھے خوشی ہے کہ مولانا منیری صاحب علم وکتاب کے ذریعہ خیر پھیلانے کا عمل انجام دے رہے ہیں، علاوہ ازیں مفتی راشد مظاہری ندوی، مولانا بدر عالم ندوی اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی نے بھی اپنے خیالات اور تجاویز سے شرکا کو آگاہ کیا، صدارت مولانانسیم اختر شاہ قیصر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمد ساجدکھجناوری اور ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے مشترکہ طور پر انجام دئے۔ مولانا عبدالخالق مظاہری نے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقعہ پر مفتى محمد فیضان اللہ قاسمى، مفتی دلنواز قاسمی ،مفتی ہاشم علی قاسمی ، قاری ریاست علی، مولانا محمد عارف مظاہری ندوی، قاری وسیم احمد، ، قاری ثاقب، ماسٹر ارشاد، قاری عبدالسلام اور قاری اجودبھی موجود تھے۔
(قندیل آن لائن کے شکریہ کے ساتھ)