اگر حکومت سبھی سے بات چیت کرے گی تو ہوگی گفتگو۔ ایم ایس پی پر قانون کا بھی مطالبہ 13دسمبر کو کسان لیڈران نے ’ٹریکٹر مارچ‘ نکالنے کا کیا اعلان
01:29PM Sat 12 Dec, 2020
زرعی قوانین کو رد کرانے کے مطالبہ پر بضد کسان تنظیموں نے اس بات سے واضح طور پر انکار کردیا ہے کہ صرف کچھ لیڈروں سے ہی مودی حکومت اگلے دور کی بات چیت کرے گی ۔ کسان تنظیموں نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت سے بات چیت ہوگی تو پورے نمائندہ وفد کے ساتھ ہوگی ، ورنہ نہیں ہوگی ۔ دراصل ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ مرکزی حکومت کچھ کسان لیڈروں کے رابطے میں ہے اور 15 دسمبر کو ان سے اگلے دور کی بات چیت ہوسکتی ہے ۔ وہیں کچھ کسان تنظیموں نے حکومت کی جانب سے مدعو کئے جانے پر بات چیت کا بھی اشارہ دیا ہے ۔
حکومت اور کسانوں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں شامل رہنے والے بھارتیہ کسان یونین ایکتا دکوندا کے جنرل سکریٹری جگموہن سنگھ نے نیوز18 سے بات چیت میں کہا کہ کسان آندولن کی اولین ترجیح ہے کہ حکومت ہم سے ہمارے پرپوزل پر بات چیت کرے اور مشترکہ کسان مورچہ کے تحت کسان آندولن کے سبھی نمائندوں سے ہی اس کی بات چیت ہو ، کچھ ایک سے نہیں ۔
حالانکہ اگر حکومت کچھ لیڈروں سے ہی بات چیت کرنا چاہتی ہے تو وہ ہمیں بتائے ۔ اس کے مطابق ہم کچھ کسان لیڈروں کو حکومت سے بات چیت کرنے کیلئے مقرر کرسکتے ہیں ۔
وہیں مودی حکومت سے بات چیت میں کسانوں کے وفد میں شامل رہنے والے کیرتی کسان یونین کے نائب صدر راجندر سنگھ نے بھی کہا کہ حکومت اگر کسانوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے تو اس کو نمائندہ وفد میں شامل سبھی لوگوں سے بات کرنی ہوگی ۔ صرف کچھ کسان لیڈروں سے نہیں ۔
کسان لیڈر راجندر سنگھ نے کہا کہ اتوار کو ہونے والی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے دئے جانے والے اگلے دور کی بات چیت کی دعوت پر گفتگو ہوگی ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مودی سرکار کی جانب سے دی گئی پہلی تجویز پر بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ اس میں شامل تجاویز سے ہم متفق نہیں ہیں ۔ اگر حکومت نئی تجویز دے گی تو ہی آگے کی بات چیت کی جائے گی ، ورنہ نہیں ۔
راجندر سنگھ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور وزیر ریل پیوش گوئل سے ہونے والی بات چیت میں کسانوں کے نمائندہ وفد میں 40 افراد ہوتے ہیں ، جن میں 32 پنجاب اور 8 دیگر ریاستوں کے کسان لیڈران شامل ہیں ۔
ہمیں یقین دہانی نہیں، ایم ایس پی پر قانون چاہئے، کسان لیڈر
اتر پردیش کے کسان لیڈر ڈونگر سنگھ نے کہا، ’’ہم آلو، گنا، اناج، سبزیوں اور دودھ سمیت اپنی تمام پیداوار پر ایم ایس پی چاہتے ہیں۔ ہم یہ گارنٹی تحریری شکل میں نہیں چاہتے بلکہ ہم
اب ایم ایس پی کے لئے قانون چاہتے ہیں۔‘‘
اس سے قبل آل انڈیا کسان جدوجہد تال میل کمیٹی کے عہدیدار سردار وی ایم سنگھ نے کہا، ’’ہم ایم ایس پی پر یقین دہانی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پیداوار کی ایم ایس پی پر خریداری کی ضمانت دی جائے۔ اگر آپ ایم ایس پی گارنٹی کا بل لاتے ہیں تو کسانوں کو فائدہ ہوگا۔‘‘
13 دسمبر کو کسانوں نے راجستھان سے ’ٹریکٹر مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا
سنگھو بارڈر پر موجود سنیوکت کسان آندولن کے لیڈر کمل پریت سنگھ پنّو نے اعلان کیا ہے کہ کل یعنی 13 دسمبر کو صبح 11 بجے شاہجہاں پور (راجستھان) ہزاروں کی تعداد میں کسان ’ٹریکٹر مارچ‘ نکالیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کسان جے پور-دہلی روڈ کو جام کریں گے اور اپنے احتجاجی مظاہرہ کو مزید تیز کریں گے۔