جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں منعقد کل جنوبی ہند مسابقہ کا اختتام: ہندوستان کی آٹھ ریاستوں سے 250/طلبہ کی شرکت

04:38PM Fri 1 Feb, 2019

بھٹکل: یکم فروری 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں دو روزہ کل جنوبی ہند مسابقہ بین المدارس، اسکولز و کالجز کا عظیم الشان اجلاس عام پر اختتام ہوا جس میں ہندوستان کی 8 ریاستوں سے 250 مساہمین نے شرکت کی۔ دو روزہ پروگرام میں کل چار نشستیں منعقد ہوئیں جس کا اختتام اجلاس عام پر ہوا. افتتاحی نشست کے بعقد مقابلوں کی پہلی نشست منعقد ہوئی جس میں مختلف مسابقوں کی جھلکیاں پیش کی گئیں. جب کہ بعد نماز ظہر اسلام، سائنس اور طب نبوی کے مفردات و مرکبات کی نمائش کا افتتاح صدر جامعہ کے ہاتھوں ہوا، جس میں سائنسی تحقیقات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں خوبصورتی سے پیش کیا گیا. دوسری نشست بعد نماز عصر دو جگہوں جلسہ گاہ (مکالمے) اور کانفرنس ہال (اسلامی کوئز) میں منعقدہپوئی جبکہ اس دن کی آخری نشست  کا اختتام بعد نماز عشاء مکالموں کے مسابقوں پر ہوا. دوسرے روز جمعرات کی صبح بیک وقت دو جگہوں کانفرنس ہال (حفظ قرآن حزب اول اور ناظرہ قرآن) اور جلسہ گاہ (حفظ قرآن حزب ثانی اور اسلامی ترانے) منعقد کیے گیے. اس نشست کے اختتام پر مندوبین علماء کرام نے اپنے تاثرات میں جامعہ اور اللجنۃ العربیۃ کے ذمہ داروں کو دلی مبارکباد دی اور ملت کو جوڑنے کا پیغام دیا جب کہ عوام الناس کی طرف سے بھی مثبت خیالات اور ہمت افزا کلمات کا اظہار رہا۔ نیز جملہ مسابقوں کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے تمام مساھمین کے مابین سرٹیفکیٹ اور خصوصی انعامات تقسیم کئے گئے. جب کہ ممتاز طلبہ کو اجلاس عام میں اعزازات سے نوازا گیا. ان مقابلوں کی آخری کڑی اجلاس عام کی شکل میں رات بعد نماز منعقد ہوئی۔ اس موقع پرصدر جامعہ مولانا اقبال صاحب ملا ندوی نے صدارتی خطاب میں نظام تعلیم کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے دور حاضر کے نظام تعلیم کے بگاڑ کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا، مزید فرمایا کہ اس نظام تعلیم سے سینکڑوں لڑکے لڑکیاں ارتداد کی راہ اختیار کرچکی ہیں، یە مدارس اس کے سد باب کی حیثیت رکھتے ہیں. ان کے ایمان کی اور ملت کو ارتداد کے خطرے سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر خاصا زور دیا۔ ناظم جامعہ جناب محمد شفیع صاحب شہ بندری نے اللجنۃ العربیۃ کے مشرفین و ذمہ داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ طلبہ نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اسی طرح اپنی تعلیم اور حسن عمل کی طرف بھی توجہ دیں، نیز محفل میں موجود ہر طبقہ سے ایک گزارش کی کہ اپنے آپسی تعلقات کو استوار رکھیں، امن و اخوت اور محبت کو عام کریں، نیز انہوں نے بڑوں کی قدر کرنے اور شرعی امور کی پابندی پر بھی زور دیا۔ اجلاس کے اختتام تک حاضرین بڑی تعداد میں موجود تھے۔