ریاستی کابینہ میں سات نئے وزراء کی شمولیت ؛ گورنر واجو بھائی والا نے دلایا حلف
12:29PM Wed 13 Jan, 2021
بینگلورو: 13 جنوری، 2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو) پچھلے کئی مہینوں سے التواء میں پڑے ریاستی کابینہ میں بالآخر آج توسیع کی گئی ہے۔ کابینہ میں توسیع کے لیے وزیر اعلیٰ یڈی یورپا کو مرکزی حکومت کی طرف سے گرین سگنل مل گیا تھا جس کے بعد انہوں نے آج شام راج بھون میںاس تقریب کا انعقاد کیا۔
اس تقریب میں گورنر واجو بھائی والا نے جن سات نئے وزراء کو عہدہ کی رازداری کا حلف دلایا ہے ان میں امیش کٹی، اروند لمباوالی، مروگیش نرانی، ایس انگارا، ایم ٹی بی ناگراج، آر شنکر اور سی پی یوگیشور شامل ہیں۔
ان تمام کو گورنر اور وزیر اعلیٰ نے مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمار کٹیل اور وزیر آر اشوک بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ کابینہ میں توسیع کے سلسلے میں وزیر اعلی یڈی یورپا پر کافی دباؤ تھا۔ حال ہی میں انہوں نے دہلی کا دورہ کیا تھا۔ اعلی کمان کی منظوری کے بعد اب کابینہ میں توسیع عمل میں آئی ہے۔
بی جے پی کے کچھ اراکین نے جتائی ناراضگی
اس توسیع کے ساتھ ہی کابینہ میں جگہ پانے سے محروم امیدواروں نے کھل کر اپنے غم اور غصہ کا اظہار کیا ہے۔ جے ڈی ایس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے ایچ وشوناتھ نے کہا کہ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے وعدہ خلافی کی ہے۔ ایچ وشوناتھ، کانگریس جے ڈی ایس کے ان 17 ایم ایل ایز میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی حمایت کی تھی۔ وشوناتھ نے وزیر اعلی کے خلاف کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی کے رکن اسمبلی بسن گوڑا یتنال نے تو وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا پر ہی انگلی اٹھا دی ہے اور کہا ہے کہ ’’یدی یورپا کو سیاست سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔‘‘ یتنال نے مزید کہا کہ ’’جو بھی بلیک میل کرتا ہے یا پیسہ دیتا ہے، اسے وزیر بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوٹہ ہے۔ ایک ہے سی ڈی کوٹہ اور دوسرا ہے سی ڈی پلس پیسہ کوٹا۔‘‘
بسن گوڑا کے مطابق جس نے سی ڈی کا استعمال کر بلیک میلنگ کی اور پھر پیسہ دیا، اسے وزیر اعلیٰ یدی یورپا نے اپنی کابینہ میں شامل کر لیا۔ بسن گوڑا یتنال نے انتہائی تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کو سی ڈی کے ذریعہ بلیک میل کیا گیا ہے اور وہ بلیک میل ہو گئے ہیں۔‘‘ بی جے پی کے ایک دیگر رکن اسمبلی کالاکپّا بندی نے بھی کابینہ توسیع کو لے کر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں پارٹی کا وفادار سپاہی ہوں۔ میں کابینہ توسیع سے خوش نہیں ہوں۔ اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
بسن گوڑا اور کالاکپّا کے علاوہ بی جے پی اراکین اسمبلی سنیل کمار، ستیش ریڈی، رینوکاچاریہ، وشوناتھ، ابھے پاٹل اور اروند بیلاڈ نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ سبھی پارٹی کے اہم لیڈران ہیں اور ان کی ناراضگی کرناٹک بی جے پی کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے منی رتنا بھی کابینہ میں جگہ پانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اس وقت منی رتنا کو بھی منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس طرح بی جے پی کے چند ایم ایل ایز نے کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
اقلیتیوں کو پھر ایک بار کیا گیا نظر انداز
دوسری جانب ریاست کی بی جے پی حکومت نے اقلیتوں کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔ موجودہ کابینہ میں ایک بھی اقلیتی نمائندہ نہیں ہے۔ حالانکہ سابق ریاستی وزیر آر روشن بیگ نے کانگریس کے ایم ایل اے کے طور پر استعفی دے کر بی جے پی حکومت کی تائید کی تھی۔ کانگریس جے ڈی ایس کے 17 باغی ارکان اسمبلی میں روشن بیگ بھی شامل تھے۔ اس طرح ریاست میں بی جے پی حکومت کی تشکیل میں ایک مسلم ایم ایل اے کی بھی حمایت شامل تھی۔ لیکن اس کے بعد بی جے پی نے آج تک روشن بیگ کو نہ پارٹی میں شامل کیا اور نہ ہی انہیں کوئی عہدہ دیا ہے۔ بی جے پی میں کئی سینئر مسلم لیڈران موجود ہیں۔ ان میں عبدالعظیم، انور مانپاڈی، مزمل احمد بابو، خسرو قریشی اس طرح کئی مسلم نمائندے موجود ہیں۔ بی جے پی نے حکومت کے اقلیتی محکمہ میں مسلم لیڈروں کو چند عہدے ضرور دئیے ہیں لیکن اب تک کسی مسلم لیڈر کو کابینہ میں شامل نہیں کیا ہے۔