ایڈی یورپا کو کرسی سے ہٹانے کی تیاری؟؟؟: 7 جون تک عہدے سے استعفی دینے بی جےپی اعلیٰ کمان کی ہدایت، بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کی مدت بڑھانے کی کوشش

06:11AM Thu 27 May, 2021

بنگلورو: 27 مئی،2021 (سالار نیوز) کرناٹک کی بی جے  پی میں وزیراعلی بی ایس ایڈی یور پا کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ کسی اورکو ریاست کی قیادت سونپنے کا معاملہ ایک بار پھر بی جے پی میں طول پکڑ تا نظر آر ہا ہے ۔ یہ کہا جار ہا ہے کہ بی جے پی اعلی کمان پر کر نا ٹک کے بعض قائدین کی طرف سے اس بات پر زور دیا جار ہا ہے کہ ایڈی یور پا کو جو 78 سال کے ہو چکے ہیں اب آرام دے کر ان کی جگہ شمالی کرناٹک کے کسی فعال رہنما کو ریاست کا وزیراعلی بنایا جائے ۔ باوثوق سیاسی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور پر ہلاد جوشی وزیراعلی کا عہد ہ حاصل کرنے کی دوڑ میں کافی آگے ہیں اور انہوں نے بی جے پی اعلی کمان کو اس بات کیلئے راضی کرلیا ہے کہ وہ ریاست میں حکومت چلا سکتے ہیں ۔ بتایا جار ہا ہے کہ جس طرح بی جے پی کی مرکزی قیادت نے اتراکھنڈ اور آسام میں قیادت کو بدل دیا اور وہاں کے وزرائے اعلی نے بغیر کسی مزاحمت کے پارٹی اعلی کمان کے فرمان کو مان لیا اسی طرح ایڈی یور پا بھی پارٹی قیادت کی بدایت کو مانتے ہوئے بلا شرط وزیر اعلی کا عہدہ چھوڑ دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ممبئی ،حیدرآباد اور بنگلورو تین مقامات سے بی جے پی کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی دہلی روانہ ہوئے۔ ہیں ۔ یہ بھی بتایا جا تا ہے کہ پر ہلاد جوشی کی طرف سے ان اراکین اسمبلی کو د ہلی آنے کی ہدایت کے بعد ہی ان لوگوں نے دہلی کا رخ کیا۔ ریاستی وزیر برائے مال گزاری آر اشوک نے چہارشنبہ کے روز کرناٹک کی قیادت میں تبدیلی کیلئے جاری کوششوں کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ ریاست کی قیادت کی تبدیلی کے مطالبہ کے ساتھ متعدد وزراء اور اراکین اسمبلی دہلی پہنچے ہوئے ہیں۔ اسی دوران بتایا جار ہا ہے کہ ریاست میں کو رو نا واقعات میں کمی کے پیش نظر 7 جون کو جب لاک ڈاؤن میں ممکنہ نرمی کا اعلان ہوسکتا ہے اسی کے ساتھ ایڈی پور پا کو بھی 7 جون کو اپنے استعفی کا اعلان کر دینے کیلئے بی جے پی اعلی کمان کی طرف سے دباؤ ڈالا جار ہا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اعلی کمان کی طرف سے اس دباؤ سے بچنے کیلئے وزیر اعلی اوران کے حامیوں کی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مزید ایک یا دو ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی جائے۔ اس دوران سیاسی حلقوں میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس بار وزیر اعلی کے خلاف سیاسی بغاوت کی قیادت وزیرصحت و میڈیکل ایجوکیشن سدھا کر کر رہے ہیں ۔ کہا جا تا ہے کہ سدھا کر ایڈی یور پا سے اس بات کو لے کر ناراض ہیں کہ کو روناوائرس کی دوسری لہر سے نپٹنے میں حکومت کی نا کامی پر جب تمام حلقوں سے نکتہ چینی نے شدت اختیار کر لی تو ایڈی یور پانے سدھا کر سے وزیرصحت کے تمام اختیارات چھین لئے اورانہیں چار وزراء آراشوک ،جگدیش شٹر ،اشوتھ نارائن اور اروند لمباولی میں تقسیم کر دئیے، اسی دن سدھا کر نے ایڈی پور پا کو نشانہ بنانے کا منصو بہ بنالیا تھا ۔  بتایا جاتا ہے کہ دوسال پہلے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے سدھا کر نے بی جے پی کے 20 سے زائدممبران اسمبلی کو اعتماد میں لے لیا ہے اور انہی کے بل پر وہ اس بار ایڈی یور پا کو ہٹانے کی کو شش کی قیادت کر رہے ہیں ۔ یہ بھی بتایا جار ہا ہے کہ ریاست کے بعض دیگر بی جے پی قائدین جو چاہتے تھے کہ ایڈی یور پا کو ہٹایا جائے ان کی سدھا کر کو مکمل تائید حاصل ہے ۔اس دوران سیاسی حلقوں میں یہ خبر بھی گرم رہی کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے چہارشنبہ کے روز سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامی سے بھی بات چیت کی اور انہیں بی جے پی میں اپنے اراکین اسمبلی سمیت شامل ہو کر ریاستی حکومت کی قیادت کرنے کا کھلا آفر دیا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ کمارسوامی نے اس بارے میں امیت شاہ کونفی یا مثبت کو ئی جواب نہیں دیا ہے ۔ یہ بھی کہا جار ہا ہے کہ ایڈی ٹور پا کو بے دخل کئے جانے کی صورت میں اگر بی جے پی میں بغاوت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں جے ڈی ایس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا بھی ایک الگ منصو بہ بی جے پی قیادت نے تیار رکھا ہے اور امیت شاہ نے کمارسوامی سے اس امکان کے بارے میں بھی بات کی ہے ۔