کسان تحریک: ترمیم ناقابل قبول، کسان تنظیموں کا حکومت کو دو ٹوک جواب

11:17AM Wed 16 Dec, 2020

کسان تنظیموں کی جانب سے حکومت کو تحریری طور پر دئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ انہیں زرعی قوانین میں ترمیم منظور نہیں ہے اور حکومت کو ان قوانین کو واپس لینا ہوگا۔ مشترکہ کسان مورچہ نے ساتھ ہی حکومت سے کہا ہے کہ وہ تحریک کو بدنام نہ کرے اور اگر بات کرنی ہے تو تمام کسانوں سے بات کی جائے۔

حکومت اور کسانوں میں تعطل برقرار

کسانوں اور حکومت کے مابین تعطل برقرار ہے۔ کسان تنظیمیں زرعی قوانین کے واپسی تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں اور اپنی تحریک میں مزید شدت لا رہی ہیں۔ دیگر ریاستوں سے بھی کسان دہلی پہنچ رہے ہیں اور دہلی بارڈر پر زبردست جمِ غفیر موجود ہے۔ کسانوں نے دہلی نوئیڈا کا چلا بارڈڑ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادھر، حکومت بھی اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کسانوں کو ورغلایا جا رہا ہے اور زرعی قوانین ان کے مفاد میں ہیں۔ گزشتہ روز خود وزیر اعظم نریندر مودی نے زرعی قونین کو کسانوں کے لئے سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کسانوں کو گمراہ کر رہی ہے اور انہیں خوف زدہ کر کے مشتعل کیا جا رہا ہے۔

کسان تحریک پر سپریم کورٹ میں سماعت

سپریم کورٹ میں بدھ کے روز کسان تحریک سے متعلق عرضیوں پر سماعت کی جائے گی۔ یہ عرضیاں دہلی کی سرحدوں پر مجمع لگانے، اور کورونا کی رہنما ہدایات پر عمل نہ کرنے کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ عرضیوں میں کسان تحریک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، پولیس ایکشن اور کسانوں کے مطالبات شامل ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرمنیم کی بنچ اس معاملہ کی سماعت کرے گی۔