دبئی سے لوٹ کر اے پی ایس میں کورنٹائن سو سے زائد افراد نے کورونا ٹیسٹ نہ ہونے پر بلند کی آواز: تنظیم کے ذمہ داران کی وضاحت

02:43PM Fri 17 Jul, 2020

بھٹکل: 17 جولائی 20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) دبئی کے راس الخیمہ سے 7 جولائی کو بھٹکل و اطراف کے 178 لوگوں کو لے کر دوسری چارٹر پرواز مینگلورو پہنچی تھی جس کے بعد انہیں بھٹکل کے ایک نجی لاڈج اور اے پی ایس میں کورنٹائن کیا گیا تھا۔ تاہم آج دس دنوں کے گزر جانے کے باوجود کسی کے تھوک کے سیمپل نہ لیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہاں موجود افراد نے سوشیل میڈیا پر ویڈیو جاری کی ہے اور اس سلسلہ میں جلد کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر ویڈیو میں سامنے آئے افراد کا کہنا تھا کہ انہیں دبئی سے سات دن کورنٹائن کی مدت بتا کر لایا گیا گیا تھا تاہم ابھی دس دن گزر جانے کے باجود ان کی جانچ نہیں کی گئی ہے اور کوئی ذمہ دار انہیں پوچھنے تک نہیں آرہا ہے۔ راجیش نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے بھائی یہاں کورنٹائن سینٹر میں ہیں لیکن ان کی ابھی کوئی جانچ نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ اگر نگیٹیو آتی ہے تو کچھ فرق نہیں پڑتا اور اگر گھر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ  پوزیٹیو ہے تو اس سے گھر والوں کو بھی تکلیف ہوسکتی ہے۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ راس الخیمہ میں ان سبھوں کی رپورٹ کورونا نگیٹیو تھی اور یہاں پہنچنے کے بعد بھی تمام لوگ صحت مند ہیں کسی میں کورونا جیسی کوئی علامت نہیں ہے۔ تنظیم میڈیکل کمیٹی کے کنوینر کی وضاحت: اس ویڈیو میں تنظیم کے ذمہ داران کو گھسیٹتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تنظیم کے ذمہ داران بھی انہیں دیکھنے نہیں آرہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم نے تنظیم کی میڈیکل کمیٹی کے کنوینر جناب یونس رکن الدین صاحب سے وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے ذمہ داران کے نہ آنے کی جو بات کہی جارہی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ہر دن تنظیم کی طرف سے تین رضاکار موجود رہتے ہیں اور وہ خود بھی موقع ملنے پر وہاں جاتے ہیں۔ موصوف نے کورونا ٹیسٹ کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکار کی طرف سے باہر سے آنے والوں یا کورنٹائن میں رہنے والوں کے لیے دس دن بعد سے جانچ شروع کیا جانا طے ہوا ہے جو کہ آج سے شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج دبئی سے لوٹ کر نجی لاڈج میں رہنے والی خواتین کے تھوک کے سیمپل لیے گئے ہیں جس کے بعد کل سے اے پی ایس میں موجود لوگوں کے سیمپل لیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھوک کے سیمپل لینا اور اس طرح کی کارروائی کرنا تعلقہ انتظامیہ کا کام ہے اس میں تنظیم مداخلت نہیں کرسکتی ہے وہ سرکاری حکم کے تحت ہی اپنی کارروائی انجام دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے سوشیل میڈیا میں بحث زور پکڑ گئی ہے۔ تاہم امید ہے کہ اے پی ایس میں موجود لوگوں کی کل سے جانچ شروع ہوگی اور ان کے تھوک کے سیمپل لیے جائیں گے۔