کراچی: ہلاکتیں 48، شہر میں ہڑتال اور سوگ
05:18PM Tue 5 Mar, 2013
کستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کی شام ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین سے واپس آنے والے افراد پر فائرنگ کے واقعے میں مزید ایک شخص ہلاک اور رینجرز کے پانچ اہلکاروں سمیت تینتیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کراچی میں سوگ اور ہڑتال: تصاویر میں
یہ دھماکا اتوار کی شام کراچی کے شرقی حصے میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن میں واقع رہائشی کمپلکس اقرا سٹی میں ہوا تھا جس سے دو رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
اس دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد اڑتالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس واقعے کے خلاف حکومتی اور عوامی سطح پر پیر کو سوگ منایا جا رہا ہے اور پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس دھماکے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں پیر کی شام اس وقت پیش آیا جب لوگ سپر ہائی وے پر واقع وادی حسین قبرستان میں تیس افراد کی اجتماعی تدفین کے بعد واپس شہر کی جانب آ رہے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ رینجرز کے پانچ اہلکاروں سمیت تینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔
فائرنگ کے اس واقعے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے اور مشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔
شہر میں سوگ
کراچی میں یومِ سوگ کے موقع پر شیعہ تنظیموں نے ہڑتال کی کال بھی دی تھی جس پر شہر میں کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ شہر میں زندگی صبح ہی سے مفلوج اور سڑکیں ویران رہیں۔
عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے میں جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ان کے مکین اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین منگل کو اپنا سامان سمیٹتے نظر آئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث متاثرہ عمارتیں انتہائی مخدوش ہو چکی ہیں اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی ہیں۔
دھماکے میں متاثر ہونے والی ایک خاتون نے روتے ہوئے کہا ’میں کیا بتاؤں، میری امی ہسپتال میں ہیں، میرا بھائی ہسپتال میں ہے، میرے بھتیجے کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں، میں کیا بتاؤں، میرا تو پورا گھر تباہ ہوگیا ہے ۔۔۔ بس اعلان ہوتے ہیں دس لاکھ دیں گے بیس لاکھ دیں گے ۔۔۔ کوئی نہیں پوچھتا۔‘
خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پندرہ پندرہ لاکھ اور زخمیوں کے لیے دس دس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر کراچی کے پولیس سرجن اسلم پیچوہو نے بتایا ہے کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے اڑتالیس افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں دو خواتین سمیت تینتیس افراد کی لاشیں جبکہ عباسی شہید ہسپتال میں چودہ اور سول ہسپتال میں ایک لاش پہنچائی گئی اور ان تمام ہلاک شدگان کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جائے وقوع سے ایک سر اور ایک بغیر سر کی لاش بھی ملی ہے جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
اسلم پیچوہو نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 170 افراد نجی ہسپتالوں میں لائے گئے جبکہ 30 زخمی افراد کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج مہیا کیا گیا۔ ان کے بقول جناح ہسپتال میں تین افراد کا آپریشن کیا گیا ہے جن کی حالت اب بھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔
