امت شاہ مشکل میں، ہتک عزتی معاملہ میں اسپیشل کورٹ نے حاضری کا دیا حکم!
04:20PM Fri 19 Feb, 2021
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان لیڈران کا مخالف پارٹی لیڈران پر الزامات لگانے کا سلسلہ بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ بھی بنگال دورہ پر لگاتار مخالف پارٹی لیڈران کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے و ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کو انھوں نے اپنی ریلیوں میں خوب نشانہ بنایا۔ لیکن کچھ بیانات کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل ابھشیک بنرجی نے امت شاہ کے خلاف ہتک عزتی کا معاملہ درج کرایا ہے جس پر اسپیشل کورٹ نے انھیں سمن جاری کر دیا ہے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اسپیشل ایم پی/ایم ایل اے کورٹ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سمن جاری کرتے ہوئے انھیں 22 فروری کو بذات خود یا وکیل کے ذریعہ پیش ہونے کو کہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھشیک بنرجی کے وکیل سنجے بسو نے دعویٰ کیا تھا کہ امت شاہ نے کولکاتا میں بی جے پی کی ایک ریلی کے دوران ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کے خلاف ہتک عزتی والے بیان دیے تھے۔
اس معاملہ میں ایم پی/ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج نے امت شاہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ 22 فروری کی صبح 10 بجے تک بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ پیش ہوں۔ جج نے یہ بھی کہا ہے کہ امت شاہ کا بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے تاکہ تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت داخل ہتک عزتی کے کیس میں جواب دیا جا سکے۔
دراصل مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی سیاسی بیان بازیوں کا دور شروع ہو گیا جو دھیرے دھیرے عروج پر پہنچتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے ہر بڑے و چھوٹے لیڈران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھشیک بنرجی پر حملہ آور نظر آ رہے ہیں۔ ابھشیک بنرجی کے لیے ’تولاباز بھائیپو‘ یعنی ’وصولی باز بھتیجا‘ جیسے الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔