بابری مسجد انہدام کیس میں سبھی32  ملزمین بری:  اب آگے کیا ہوگا ، کیا چیلنج دیا جاسکے گا

10:29AM Wed 30 Sep, 2020

نئی دہلی: 30 ستمبر، 20 (ذرائع) 28 سال پرانے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی عدالت کا فیصلہ آچکا ہے ۔ عدالت نے اڈوانی ، جوشی ، اوما بھارتی ، کلیان سنگھ ، نرتیہ گوپال داس سمیت سبھی 32 ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ جج ایس کے یادو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد ڈھانچہ منہدم کرنے کا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا ۔ فیصلہ سناتے ہوئے جج ایس کے یادو نے کہا کہ وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ متنازع ڈھانچہ گرانے کا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا ۔ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا ۔   خیال رہے کہ سیشن ٹرائل نمبر 344/1994, 423/2017  اور 796/2019 حکومت بنام پون کمار پانڈے و دیگر ملزمین معاملہ میں سبھی فریقوں کی سماعت 16 ستمبر کو ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد 30 ستمبر 2020 کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی ۔ بابری مسجد انہدام معاملہ میں کل 49 ملزمین تھے ، جن میں سے 32 فی الحال زندہ ہیں اور 17 کی موت ہوچکی ہے ۔   اب آگے کیا ہوگا ، کیا چیلنج دیا جاسکے گا لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، کلیان سنگھ ، اوما بھارتی ، ونے کٹیار ، سادھوی ریتنبھرا ، مہنت نرتیہ گوپال داس ، ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی ، چنپت رائے ، مہنت دھرم داس ، ستیش پردھان ، پون کمارے پانڈے ، للو سنگھ ، پرکاش شرما ، وجے بہادر سنگھ ، سنتوش دوبے ، گاندھی یادو ، رام جی گپتا ، برج بھوشن شرن سنگھ ، کملیش ترپاٹھی ، رام چندر کھتری، جئے بھگوان گوئل ، اوم پرکاش پانڈے ، امرناتھ گوئل ، جئے بھان سنگھ پویا ، مہاراج سوامی ساکشی ، ونے کمار رائے ، نوین بھائی شکلا ، آر این شریواستو ، آچاریہ دھرمیندر دیو ، سدھیر کمار ککڑ اور دھرمیندر سنگھ  گرجر۔ ان 17 ملزمین کی ہوچکی ہے موت سی بی آئی کی طرف سے بنائے گئے 49 ملزمین میں سے اشوک سنگھل ، گری راج کشور ، وشنو ہری ڈالمیا ، موریشور ساویں ، مہنت اویدھ ناتھ ، مہامنڈلیشور جگدیش منی مہاراج ، بینکٹھ لال شرما ، پرم ہنس رام چندر داس ، ڈاکٹر ستیش ناگر ، بالا صاحب ٹھاکرے ، اس وقت کے ایس ایس پی ڈی بی رائے ، رمیش پرتاپ سنگھ ، مہاتیاگی ہرگووند سنگھ ، لکشمی نارائن داس ، رام نارائن داس اور ونود کمار بنسل کی موت ہوچکی ہے ۔   سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد تیز ہوئی سماعت غور طلب ہے کہ 19 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے سبھی کیس اسپیشل کورٹ لکھنو ایودھیا معاملہ کو منتقل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ دو سال کے اندر ٹرائل ختم کیا جائے ۔ 21 مئی 2017 کو اسپیشل سی بی آئی کورٹ ایودھیا معاملہ میں یومیہ سماعت کا آغاز ہوا ۔ 8 مئی 2020 کو سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ یہ ٹرائل تین ماہ میں ختم ہوجائے اور 31 اگست 2020 کی تاریخ مقرر کی ، لیکن ٹرائل ختم نہ ہونے پر اور لاک ڈاون کو دیکھتے ہوئے عدالت عظمی نے 30 ستمبر کو ٹرائل ختم کرنے کو یقینی بنانے کیلئے کہا ۔ یکم ستمبر کو دونوں فریقوں کی سماعت پوری ہوئی اور 16 ستمبر کو اسپیشل جج نے 30 ستمبر 2020 کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ۔   اب آگے کیا ہوگا؟ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام معاملہ میں لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 32 ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اور اس معاملہ میں آگے کیا ہوگا ۔ خیال رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو جب رام سیوک ایودھیا میں جمع ہوئے تھے ، تبھی اچانک کچھ لوگوں کو بابری کے گنبد پر چڑھتے دیکھا گیا ۔ اس کے کچھ دیر بعد اس کو بھیڑ نے منہدم کردیا ۔ اس وقت وہاں وشو ہندو پریشد ، بی جے پی اور بجرنگ دل کے لیڈران بھی تھے ۔ ان میں 49 لوگو ملزم بناکر یہ معاملہ شروع ہوا تھا ۔ اس درمیان 17 ملزمین کا انتقال ہوگیا ۔ اب سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے کہ یہ کوئی پہلے سے منصوبہ بند کارروائی نہیں تھی بلکہ جو کچھ ہوا وہ اچانک ہوا ۔ سی بی آئی عدالت کے اس فیصلہ کے ساتھ کیا یہ معاملہ یہیں ختم ہوجائے گا یا اس کو چیلنج کیا جاسکے گا ۔ یہ ایک سوال ہے ۔   کیا ہوگا فریق کا موقف اس معاملہ میں ہاشم انصاری ایک فریق تھے ۔ ان کے انتقال کے بعد اب ان کے بیٹے اقبال انصاری فریق بنے ۔ انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ اب ختم ہوجائے ۔ 30 ستمبر کو بھی جب لکھنو کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا تو انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کی جانب سے یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے ۔ سی بی آئی کا کیا رخ ہے ظاہر سی بات ہے کہ وہ اس معاملہ کو چیلنج دینے والی نہیں ہے ۔ سی بی آئی خود اس معاملہ کو ختم کرچکی ہے ، جس نے طویل عرصہ تک اس معاملہ کی جانچ کی اور اس کو عدالت تک لے گئی ۔ تو کیا ختم ہوجائے گا یہ معاملہ اگر کسی نے اس معاملہ کو چیلنج نہیں کیا تو یہ معاملہ ختم ہوجائے گا اور سبھی بری ملزمین کو پھر سے کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور یہ معاملہ قصہ پارینہ بن جائے گا ۔ کیا اس کو چیلنج کیا جاسکتا ہے لیکن ہندوستانی آئین کے تحت ہندوستان کا کوئی بھی شہری اس طرح کے بہت سے لوگوں سے وابستہ معاملات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے ۔ ویسے بھی سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلوں میں 90 فیصدی فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے ۔ لہذا عوام میں کوئی بھی اس معاملہ کو چیلنج کرتے ہوئے اس کو ہائی کورٹ لے جاسکتا ہے ۔ کیا ہوتی ہے سی بی آئی کی خصوصی کورٹ کی سطح سی بی آئی کی خصوصی کورٹ ضلع عدالت کے مساوی ہوتی ہیں ۔ ان کی تشکیل دہلی اسپیشل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 1946 کے تحت کی جاتی ہے ۔ عام طور پر اس لئے کہ یہ عدالتوں کے بوجھ کو کم کریں ۔ یہ سی بی آئی سے وابستہ معاملات کو ہی ڈیل کرتی ہیں ، لہذا ان کے پاس جو کیس آتے ہیں ، وہ پیچیدہ اور مشہور ہوتے ہیں ۔ ان کا جج کیسے بنایا جاتا ہے ان عدالتوں کا جج جوڈیشیل سسٹم سے ہی آتا ہے یا پھر اس کو میرٹ کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے ۔ وہ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ یا جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے ہم منصب ہوتا ہے ۔