کسانوں کے احتجاج کا 25 واں دن: غازی پور بارڈر پر مظاہرین کسانوں کا انتباہ ’مسائل دور کئے جائیں،بصورت دیگر دوسرا لین بھی روکیں گے‘
04:18PM Sun 20 Dec, 2020
نئی دہلی،20/دسمبر (آئی این ایس انڈیا)دہلی سے ملحقہ ہریانہ اور یوپی کی سرحدوں پر کسانوں کے احتجاج کا آج 25 واں دن ہے۔ حکومت اور کسان دونوں کی طرف سے کوئی اقدام نہ کرنے کی وجہ سے معاملہ زیر التوا ہے۔فی الحال کوئی ہل چل نظر نہیں آرہی ہے۔تین نئے زرعی قوانین کے خلاف تحریک حسب معمول جاری ہے۔
ادھر یوپی کے غازی پور بارڈر پر احتجاج کرنے والے کسان رہنماؤں نے غازی آباد انتظامیہ کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ریاست کے اضلاع سے آنے والے کسانوں کی ٹریکٹر ٹرالیوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ اگر 24 گھنٹوں میں اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو وہ ہائی وے کی دوسری لین بھی بند کردیں گے۔
کسان رہنما وی ایم سنگھ نے افسران کو بتایا کہ جو کاشتکار ہاتھوں میں ٹوپیاں، بیج اور جھنڈے اٹھا ئے چل رہے ہیں، انہیں روکا جارہا ہے۔ جو لوگ گھر لوٹ رہے ہیں، ان کی ٹریکٹر ٹرالی پکڑی جارہی ہے، اسے بھی تحویل میں لیا جارہا ہے۔غازی آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیلندر کمار سنگھ اور ایس پی سٹی -2 گیانیندر کمار سنگھ کسانوں کی مشکلات سننے آئے۔
وی ایم سنگھ نے انہیں 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر کسانوں کی پریشانیوں کا حل نہیں کیا گیا، تو وہ نیشنل ہائی وے 24 کے دوسری طرف کی لین جام کردیں گے۔ اس پر اے ڈی ایم نے کہا کہ جلد ہی اس معاملہ پر حکام سے بات کرکے وہ اس کا حل نکالیں گے۔ادھر میرٹھ سے ہند کسان مزدور کسان سمیتی کے ممبران بھی اس تحریک میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہوگئے ہیں،وہ ٹریکٹر مارچ نکال کر غازی آباد آ رہے ہیں۔
جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کے روز دہلی کے گرودوارہ رکاب گنج صاحب پہنچے، یہاں مودی نے متھا ٹیکا۔ ان کی آمد کی کوئی اطلاع نہیں تھی، اچانک وہ گرودوارے پہنچ گئے۔
دہلی کے چلا بارڈرپر یوپی کے کسان احتجاج کررہے ہیں، اس کے پیش نظر یہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات ہے۔ نوئیڈا اور دہلی کے درمیان چلا بارڈر کو ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ہے۔