بجٹ 2019: انتخابی سال میں متوسط طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش، 5 لاکھ روپے تک آمدنی ٹیکس فری
04:05PM Fri 1 Feb, 2019

مودی حکومت کے دور اقتدار میں آخری بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ انتخابی سال ہونے کی وجہ سے مودی حکومت نے بجٹ میں جملوں کی بوچھار کر دی ہے۔ حالانکہ عام لوگوں کو انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو بڑھا کر بڑا تحفہ دیا ہے۔ وزیر مالیات پیوش گویل نے لوگوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہوئے انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو بڑھا کر 5 لاکھ کر دیا ہے۔ اب پانچ لاکھ تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا۔ سرمایہ کاری کرنے پر 6.5 لاکھ تک کوئی ٹیکس نہیں ادا کرنا پڑے گا۔ قابل غور ہے کہ اس سے پہلے ٹیکس فری آمدنی کی حد 2.5 لاکھ روپے سالانہ تھی۔
ویسے اس حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد صرف 2014 میں انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کی تھی اور ٹیکس فری آمدنی کی حد 2 لاکھ سے بڑھا کر 2.5 لاکھ سالانہ کی تھی۔ اس کے بعد کے چار بجٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ اس عمل سے ظاہر ہے کہ موجودہ اعلان انتخاب کے پیش نظر ہی کیا گیا ہے۔ حکومت نے براہ راست متوسط طبقہ اور ملازمت پیشہ لوگوں کو انتخابی تحفہ دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وزیر مالیات نے واضح کر دیا کہ انکم ٹیکس کی نئی شرحیں موجودہ مالی سال میں نہیں بلکہ آئندہ مالی سال سے نافذ ہوں گی، یعنی اس سال انکم ٹیکس میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
اس دوران پیوش گویل نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس فائلنگ کو آسان بنایا، ٹیکس کلیکشن بڑھ کر 12 لاکھ کروڑ ہوا۔ 24 گھنٹے میں آئی ٹی ریٹرن کی پروسیسنگ اور ٹیکس اندازہ کے لیے دفتر نہیں جانا پڑے گا۔ میں ایماندار ٹیکس دہندگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
موجودہ حالات کی بات کریں تو 2.5 لاکھ روپے کی آمدنی کو انفرادی انکم ٹیکس سے چھوٹ ملتی ہے جب کہ 2.5 سے 5 لاکھ روپے کے درمیان کی سالانہ آمدنی پر 5 فیصد ٹیکس لگتا ہے۔ 5 سے 10 لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی پر 20 فیصد اور 10 لاکھ سے زیادہ کی سالانہ آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس لگتا ہے۔ علاوہ ازیں 80 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو 5 لاکھ روپے سالانہ کی آمدنی پر ٹیکس چھوٹ ہے۔