چندریان 2کوکامیابی کے ساتھ چھوڑا گیا، ہندوستان نے نئی تاریخ رقم کی۔(تصویر۔اسرو،ٹویٹر)۔
اسرو کا یہ پہلا مشن ہے جس میں چاند کی سطح پر لینڈراترے گا۔اس لینڈر کا نام ہندوستانی خلائی سائنس داں وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔وکرم لینڈر ہی چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرے گا۔لینڈر کے ساتھ پے لوڈ بھیجے گئے ہیں۔لینڈر کے اندر روورپرگیان کو رکھا گیا ہے۔یہ بے حد دھیمی رفتار سے لینڈر سے باہر نکلے گا۔یہ چاند کی سطح پر 500میٹر تک چلے گا۔اس کے ساتھ دو پے لوڈ ہوں گے۔چاند کی مٹی او رپتھر وں کی معلومات اس کے ذریعہ اسرو کو بھیجی جائے گی۔یہ ایک پیچیدہ مشن ہے جس میں آربیٹر، لینڈر اور روور ٹکنالوجیز کو ایک ساتھ جمع کیاگیا ہے۔ اس چاند کے مشن کے لئے اسرو نے کئی برسوں محنت کی ہے۔ جاریہ سال اپریل میں اسرائیل کے لونار کرافٹ نے چاند پر کریش لینڈنگ کی تھی۔اس مشن کی ناکامی پر اسرو نے چندریان مشن کو اپریل سے جولائی تک ملتوی کردیاتھا۔اس کی لانچنگ میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی تھی جس کو دور کرنے کے بعد اس کو آج چھوڑاگیا۔ اس 3.85 ٹن وزنی راکٹ کو اسرو نے فیاٹ بوائے کا نام دیا ہے جسے باہو بلی بھی کہا جارہا ہے۔ وہ چندریان 2 کو زمین کے اطراف اونچے مدار میں داخل کرے گا۔ بعد میں اس مدار کو اسرو کے سائنسداں ریموٹ کے ذریعہ اپنی کوششوں سے اور اوپر اٹھائیں گے۔ آخر کار اسے زمین کے مدار سے نکالا جائے گااور چاند کے دائرے اثر تک پہنچایا جائے گا۔
پہلی مرتبہ کوئی انسانی ساختہ شئے کو لار کے علاقہ میں سافٹ لینڈنگ کرنے والی ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح، پانی کی دستیابی اور اس کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات بتانے والا ہے۔اس مشن کی اندازاً لاگت 978 کروڑ روپئے رہی ہے۔ ہندوستان اس پورے مشن کی تکمیل پر چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔ چندریان مشن کو کے ساتھ چھوڑنے کے بعداس کو چاند کے جنوب قطب پر پہنچنے کے لئے دو ماہ درکارہونے والے ہیں۔ چندریان 2اسرو کے لئے ایک باوقار پروجیکٹ ہے۔اس سٹلائٹ سے ہمارے ملک کا ٹکنالوجی سسٹم مستحکم ہوگا۔اس مشن کے مکمل فائدے حاصل کرنے کے لئے دو ماہ درکار ہوں گے۔ اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوب قطب کے علاقہ کی تفصیلات معلوم ہوسکیں گی کیونکہ اس علاقہ کے بارے میں کسی نے بھی دریافت نہیں کیا ہے۔ یہ پروجیکٹ اسرو کے لئے اہم ترین اور باوقار پروجیکٹ ہے۔اس مشن کوچاند کی سطح پر پہلا قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ کی یوم پیدائش 5اگست سے پہلے چھوڑا گیا۔
چندریان 2کوکامیابی کے ساتھ چھوڑا گیا، ہندوستان نے نئی تاریخ رقم کی۔(تصویر۔اسرو،ٹویٹر)۔
ہندوستان کے پہلے چاند مشن 1کو پی ایس ایل وی کو استعمال کرتے ہوئے 22اکتوبر2018کو چھوڑا گیاتھا۔ جس نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کا پتہ چلایا تھا۔اگرچہ کہ چاند کے جنوبی قطبی علاقہ تک پہنچنے میں کئی مشکلات قبل ازیں کی کئی کوششوں میں ہوئی ہیں تاہم چندریان2پہلا مشن ہے جو چاند کی اس سطح تک رسائی حاصل کرے گا جہاں اب تک کسی بھی انسان کی رسائی نہیں ہوپائی ہے۔اس خلائی گاڑی کو اس طرح ڈیزائن کیاگیا ہے کہ وہ 17دنوں تک زمین کے چکر لگائے گی۔وہ زمین کی کشش ثقل کا استعمال کرے گی۔چاند کی سطح پر پہنچنے کے بعد یہ کئی طرح کی پیچیدہ سرگرمیاں انجام دے گا۔چاند کی سطح کی تصاویر اس کی لینڈنگ سے پہلے لی جائیں گی تاکہ محفوظ اور خطرناک زونس کا پتہ چلایاجاسکے۔ایک ماہ طویل سفر کے بعد 6ستمبر کو یہ چاند کی جنوبی قطب پر اترے گا۔یہ مشن تقریبا ایک سال تک جاری رہے گا۔