یورپی یونین اور امریکہ کی آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت

02:54PM Thu 14 Feb, 2013

U.Unionامریکہ اور یورپین یونین آزاد تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔جس سے تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی سمجھوتے کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔ یورپین یونین کے صدر جوز مینئل باروسو نے یہ اعلان امریکی صدر براک اوباما کے کانگرس کو سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے بعد کیا۔ اس معاہدے کی رو سے دنیا کے ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان 455 ارب یورو کا کاروبار ہوتا ہے۔ جوز مینئل باروسو نے برسلز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان معاہدہ ایک کلیدی اقدام ہوگا جس سے بحرِ اوقیانوس کے دونوں طرف ہماری معیشت مضبوط ہوگی۔‘ مریکی صدر براک اوباما نے منگل کو سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اس بات چیت کے لیے حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے سے امریکی برآمدات کو تقویت ملے گی، روزگار بڑھے گا اور ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار کرنے کے لیے سب کو ایک جیسے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوسری طرف یہ معلوم نہیں کہ ان مذاکرات پر کتنا وقت لگے گا کیونکہ اس قسم کی بات چیت پر کئی سال لگتے ہیں۔ برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یورپین یونین کے حکام پْر امید ہیں کہ یہ مذاکرات دو سال میں مکمل ہوجائیں گے۔ امریکہ اور ای یو کا ورکنگ گروپ آزاد تجارتی معاہدے کے امکانات پر مذاکرات کے لیے 2011 میں بنایا گیا تھا۔ ای یو کے تجارت کے کمشنر کاریل ڈی گوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ای یو کے درمیان آزاد تجارت کا موضوع کئی سالوں سے زیرِ بحث رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات گرمیوں میں شروع ہوں گے۔انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ مذاکرات’مشکل‘ اور ’پیچیدہ‘ ہوں گے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کے دو بڑی معیشتوں کے درمیان ان مذاکرات کی ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ای یو کا کہنا ہے کہ معاہدے میں محصولات اور دوسرے تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے پر زور دیا جائے گا، جب کہ تکنیکی ضابطوں کا ایک معیار مقرر کیا جائے گا۔ مذاکرات کے دوران زراعت کا شعبہ باعثِ تنازع ہو سکتا ہے۔ یورپ کا شعبۂ زراعت کو ’زراعت کی ایک جیسی پالیسی‘ کے تحت پہلے سے ہی سبسڈی ملی ہے اور یورپ کے وزیرِ زراعت نے بھی پہلے سے ممکنہ معاہدے سے زراعت کے شعبے پر ہونے والے اثرات کی وجہ سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکومت کو بھی مقامی تجارتی حلقوں کے دباؤ کا سامنا ہوگا جنہوں نے ماضی میں سستی چینی درآمدات سے اپنی مارکیٹ کو بچانے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ای یو نے پہلے ہی سے کہہ دیا ہے کہ بعض ’حساس‘ شعبوں پر تفصیلی بات چیت کی ضرورت ہوگی لیکن کسی بھی شعبے کو معاہدے سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ BBC URDU