عازمینِ حج کا مکہ مکرمہ میں خیرمقدم، کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی اقدامات
01:57PM Sun 26 Jul, 2020
سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں اس مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنے والے خوش نصیبوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور سعودی حکام نے ان کے پہلے گروپ کا مکہ مکرمہ میں خیرمقدم کیا ہے۔ ان عازمین کا ایک خودکار طریقے سے انتخاب کیا گیا ہے۔ انھیں مناسکِ حج کے آغاز سے قبل مکہ مکرمہ میں ایک مخصوص ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا۔ البتہ شہر کے قرب وجوار میں رہنے والے منتخب عازمین کو ہوٹل میں قیام کی ضرورت نہیں۔
سعودی حکومت نے اس مرتبہ کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے صرف مملکت میں مقیم شہریوں اور مکینوں ہی کو حج کی اجازت دی ہے۔ سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن کا کہنا ہے کہ ان کا انتخاب اٹکل پچو خودکار طریقے سے کیا گیا ہے اور اس عمل میں کوئی انسانی کردار کار فرما نہیں تھا۔ انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جو لوگ اس سال حج ادا کریں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کا لاکھوں، کروڑوں لوگوں میں سے انتخاب کیا ہے۔ یہ کوئی انسانی انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ ایک خدائی انتخاب ہے اور محدود تعداد میں عازمین فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔‘‘
سعودی عرب کے دور دراز شہروں میں رہنے والے منتخب عازمین کو طیارے کے ذریعے پہلے جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منتقل کیا گیا ہے، وہاں ان کی مکمل اسکریننگ کی گئی اور اس کے بعد انھیں بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ میں لایا گیا ہے۔ وہ اپنے ہوٹل میں 29 جولائی کو مناسک حج کے آغاز سے قبل تک الگ تھلگ رہیں گے۔ عازمین وہاں قیام کے دوران میں ہر وقت اپنے چہروں پر ماسک پہن کر رکھیں گے۔ ہوٹل میں داخلے پر ان کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا گیا ہے۔ تمام عازمین اس ہوٹل کے نزدیک ایک مخصوص جگہ جمع ہوں گے اور پھر انھیں وہاں سے مناسک حج کے لیے دوسرے مقامات منیٰ، عرفات اور جمرات لے جایا جائے گا۔
وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین کی صحت کے تحفظ کے لیے اس ہوٹل میں سخت احتیاطی تدابیر کا نفاذ کیا ہے۔ ہر ایک عازم کو الگ الگ کمرا دیا گیا ہے۔ ہاتھوں کی صفائی کے لیے الگ سینیٹائزر مہیا کیے گئے ہیں اور سماجی فاصلے کے ضابطے کی سختی سے پاسداری کی جا رہی ہے۔ سعودی حکام نے تمام عازمین حج کو مکہ مکرمہ میں آمد سے قبل اپنے ہی گھروں میں سات روز تک الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ البتہ ایسے عازمین جو ماضی قریب میں کرونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے لیکن اب صحت یاب ہوچکے ہیں، انھیں قرنطینہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ حج سے چند روز بل مکہ مکرمہ پہنچیں گے۔