اگست کے اواخر میں پہلا اسرائیلی امریکی وفد امارات کے دارالحکومت ابوظبی پہنچا تھا۔ اس موقع پر تمام فریقوں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں زور دیا گیا تھا کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتا ایک دلیرانہ قدم ہے۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ امارات اور اسرائیل کے بیچ سمجھوتے نے فلسطینی اراضی کے انضمام کے منصوبوں پر عمل روک دیا ہے۔ یہ سمجھوتا مسائل کی درستی کے لیے نئی سوچ فراہم کرے گا۔ فریقین نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی طرف واپس لوٹیں اور امن کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ معاہدہ نارمل تعلقات کے قیام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ وفد کے دورے کے موقع پر امارات اور اسرائیل کے درمیان سرمایہ کاری، خارجہ پالیسی اور شہری ہوابازی کے شعبوں میں تعاون کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ امید ظاہر کی گئی کہ مستقبل کے حوالے سے مثبت تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ مشترکہ بیان میں اس کامیابی کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا گیا۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی سطح پر مثبت ردود عمل پر ممنونیت کا اظہار کیا۔