Syed Hasan Barmawer (02) By Abdul Mateen Muniri

Abdul Mateen Muniri

Published in - Yadaun Kay Chiragh

04:04PM Thu 26 Mar, 2026

۱۹۷۰ ء دہائی میں تلاش معاش کے لئے خلیجی ممالک کے دروازے اہل وطن پر جب کھل گئے، تو سنہ ۱۹۷۷ ء  میں  آپ نے سعودی عرب  کا رخ کیا، جس میں آپ کو  اپنے ماموں زاد بھائی محمد اسماعیل اکرمی کا تعاون رہا، پہلے آپ نے مقامی عرب سلیمان دلالی کے ریسٹورنٹ میں کچھ عرصہ کام  کیا، پھر الخوبر میں مرحوم محمد اسماعیل کیپا  سائب کے اسٹور سے تجارتی اشیاء کپڑے وغیرہ لے کر الجبیل میں چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا، کچھ عرصہ بعد    ایک مقامی عرب محمد الحمری کی شراکت میں یہیں پر وھائٹ شاپ کے نام سے دکان شروع کی، جس میں آپ کے عزیز محمد اسماعیل اکرمی  بھی  آپ کے شریک رہے۔

قسمت نے یاوری کی تجارت خوب چمکی، آٹھ دس سال تک خوب ترقی ہوتی رہی ، اور  ہن برسنے لگا،اور آپ سعودی عرب میں بھٹکل کے قدیم اور بڑے  تاجر کیپا سائب کی طرف منسوب ہوکردھاکلو کیپا  (چھوٹا کیپا ) مشہور ہوگئے،  اس دوران  آپ نے  (۱۳) کپڑوں کی دکانیں قائم کیں، پھر حالات نے پلٹا کھایا ، کچھ عراق ایران جنگ کا بھی اثر تھا، آہستہ آہستہ تمام دکانیں بند ہوگئیں، پھر آپ نے جدہ میں کاروبار شروع کیا، ۱۹۹۴ء میں ایک دو سال کے لئے دبی میں بھی سید تبریز برماور  مرحوم کے ساتھ ایک تجارتی آفس قائم کیا تھا، اس طرح ۱۹۹۷ء تک لشتم پشتم جدہ ودبی میں کاردبار چلتا رہا، یہاں تک آپ نے بھٹکل میں مستقل اقامت اختیار کی۔  اور اپنی زندگی خدمت خلق کے لئے وقف کردی۔اور یہاں پر آپ نے اپنی جد وجہد او رکوششوں اور قربانیوں کے انمول  نشان ثبت کئے۔

گھر واپسی۔ سماجی خدمات

یہا  ں  اسلامک ویلفیر سوسائٹی  آپ کی توجہات کا خصوصی مرکز رہی،  ۱۹۸۸۔۱۹۸۹ء  میں جب اسے مالی بحران کا سامنا ہوا، تو آپ نے خطیر عطیہ کے ذریعے اسے مستحکم ہونے میں بڑی مدد کی۔  شمس انگلش اسکول بھی  آپ کی سخاوت کا شاہد رہا، ان اداروں سے آپ کی دوسری نسل وابستہ ہے۔

مجلس اصلاح وتنطیم   کے کاموں میں بھی آپ کی دلچسپی رہی، آپ نے آرٹی ای کے قانون کا بہترین استعمال کرتے ہوئے، سرکاری اداروں میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کو اجاگر کرنے میں قابل قدر کوششیں کیں۔

 جب بھٹکل ریلوے نظام سے جڑ گیا، اور کوکن ریلوے کا آغاز ہوا ، اور ڈپارٹمنٹ سے بھٹکل کے ساتھ سوتیلے پن کا اظہار ہونے لگا، تو کئی ایک بڑے روٹس کی اہم ٹرینوں کو یہاں روکنے اور مسافرین کو سہولت بخشنے کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔

وہ مجلس ملیہ نوائط کالونی ، عثمانیہ مسجد، اور مسجد عمر الجابری کی انتظامیہ سے بھی وابستہ رہے۔جامعہ آباد میں واقع مسجد ابراہیم کی تعمیر میں آپ کا وافر  حصہ رہا، آپ کا ارادہ ایک دینی تعلیمی ادارے کے قیام کا بھی تھا، جس کے لئے سعدا محمد جفری  کے نام سے منسوب ایک عمارت بھی وقف کی تھی۔

آپ  کا زندگی بھر جماعت اسلامی سے جذباتی لگاؤ رہا، جب وہ باہر رہے تب بھی جماعت کے بڑے پروگراموں اوراجتماعات میں سفر کرکے شرکت کا اہتمام کرتے تھے، اور جب جماعت کی اہم شخصیات بھٹکل تشریف   لاتیں تو ان کی میزبانی زیادہ تر آپ  ہی کے حصے میں آتی تھی۔

وہ دل کے صاف تھے، جوبات دل میں آتی  بلارو رعایت    اس کا اظہار کرتے تھے۔ جس سے جہاں ان کے چاہنے والے پیدا ہوئے وہے، وہیں کئی ایک نے ان سے فاصلہ رکھنے  میں ہی عافیت سمجھی۔  

ذاتی تعلق خاطر۔ چند واقعات

اس ناچیز سے  آپ کا مخلصانہ تعلق رہا، میری اہلیہ کے ساتھ اپنی ایک سگی بہن کی طرح پیش آتے تھے، اور غمی خوشی کے تمام  موقعوں پر پابندی سے یاد کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے اڑوس پڑوس کے خاندان والوں کی خوب خبر گیری کی، انہیں معاشی طور پر اوپر اٹھانے اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا زندگی کے آخری لمحات تک اہتمام کیا۔

اس ناچیز  کو عالم اسلام کے حالات سے سن شعور کے آغاز ہی سے دلچسپی تھی، ۱۹۷۵ء میں جب جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریس سے وابستگی ہوئی تو، عالم عرب کے مجلات کی فراہمی کی کوششیں کرنے کا موقعہ ملا، ۱۹۷۶ء میں  جب مصر سے اخوان کے مجلہ الدعوۃ کا (۲۳) سال بعد   استاد عمر التلمسانی اور صالح عشماوی کی ادارت میں از سر نو اجراء ہوا تو اس کے پہلے شمارے سے اپنے نام یہ مجلہ جاری کرنے میں کامیابی ہوگئی۔

 وہ زمانہ آڈیو کیسٹوں کا تھا، مجلۃ الدعوۃ میں شیخ عبد الحمید کشک، محمد متعال الجبری، حسن ایوب،جیسے مصری خطیبوں کے کیسٹوں کے اشتہارات چھپتے تھے، جنہیں دیکھ کر اردو میں بھی ایسے دعوتی اور تحریکی کیسٹوں  کے اجراء کی خواہش ہوتی تھی، جب ۱۹۷۹ء کے وسط میں تلاش معاش کے لئے  ہمارا دبی جانا ہوا تو پہلے روز سے وہاں کے ایک ایسے ادارے سے تعلق ہوگیا ، جہاں ہفتہ وار دینی ودعوتی پروگرام منعقد  ہوتے تھے،یہاں آنے والے مشاہیر علماء و داعیان  حق کے خطبات بالمشافہ سننے کا موقعہ ملتا تھا، اس زمانے میں مصر کے شیخ عبد الحمید کشک کی بڑی شہرت تھی، قاہرہ میں ا ن کے جمعہ خطبات سننے کے لئے لوگ مسجد میں فجر کی نماز سے بیٹھ کر انتظار کرتے تھے، ان کے خطبات کے کیسٹ خوشبو کی طرح پھیلتے تھے، دبی میں آپ کے خطبات اسی روز پہنچتے، اور ان کی سیکڑوں کاپیاں  بکتیں، ہمارے دبی پہنچنے کے تھوڑے عرصہ قبل ہمارے کرم فرما صدیق محمد جعفری مرحوم کی کوششوں سے الراس میں واقع دبی کے اولین مدرسہ الاحمدیۃ کی قدیم عمارت میں  دار المطالعہ لئے ایک کمرہ مل گیا تھا، جس میں    مقامی اور ہندوپاک کے روزنامے، ہفت روزے، اور مجلات آتے تھے، ایک کتب خانہ بھی تھا جس میں سینکڑوں کتابیں پائی جاتی تھیں،یہ جمعیت تربیت اسلامی کے نام سے موسوم تھا، اور اس کے ماتحت ہفتہ وار درس قرآن، اجتماعی مطالعہ، تقسیم فطرہ اور مختلف تحریکی و دعوتی سرگرمیاں ہوتی تھی،  ۱۹۸۰ء میں اس کی نظامت کا بار اس ناچیز  کے کاندھوں پر پڑا، جو آٹھ سال تک جاری رہا۔

  ہماری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے، اس وقت کے اوقاف  دبی کے ڈائرکٹر جنرل  شیخ عبد الجبار محمد الماجد مرحوم نے   جمعیت کو  سرکاری اجازت نامہ مرحمت فرمایا،   جس کی بنیاد پر وزارۃ الاعلام والثقافہ سے بھی لائسنس مل گیا۔ اس طرح ہماری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگئی، اور ۱۹۸۰ء میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند  مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں سے پیغام اسلام کیسٹ سیریز کے نام سے آڈیو کیسٹوں کا اپنی نوعیت کا اولین سلسلہ شروع ہوا،  اس کا آغاز ہم نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ کی پنجاب یونیورسٹی کی تقریر  سیرت کا پیغام سے کیا تھا، اس زمانے میں ہمارے تعلقات مولانا خلیل احمد حامدی ، سابق ناظم دار العروبہ، و ادارہ معارف اسلامی لاہور سے مستحکم ہوئے، حامدی مرحوم کو ہمارا کیسٹوں کا سلسلہ بہت پسند آیا، اور لاہور جاکر الابلاغ لمیٹڈ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جہاں سے مولانا مودودی کے مزید کیسٹوں کی اشاعت ہوئی، جس میں ایک طرح سے ہماری جمعیت کا بھی تعاون رہا، اور ایک معاہدے کے تحت، الابلاغ کے کیسٹ ہمیں  موصول ہوتے، جن کی کاپیاں ہم بناتے، اور ہر کاپی پر ایک درہم رایلٹی دیتے، ان پر الابلاغ کے اوریجنل غلاف اور اسٹیکر استعمال کرتے۔

وہ زمانہ ویڈیو کیسٹوں کا تھا، جو وی سی آر پر چلتے تھے،۱۹۸۱ء میں ہم لوگوں نے پیغام اسلام ویڈیو سیریز  کا آغاز کیا، اس کا آغاز بھی  مولانا مودودی کے اکلوتے ویڈیو انٹرویو  " داعی الی اللہ کے اوصاف " سے کیا تھا، جسے ہمیں مصاحبہ کار ڈاکٹر انیس احمد نے اس زمانے میں اہتمام سے بھیجا تھا۔

سید حسن مرحوم کے لئے یہ سب چیزیں بڑی دلچسپی کی تھیں، اسکے لئے آپ نے ایک بڑا قیمتی ویڈیو کیمرہ لیا تھا، جو وطن میں ہمارے بہت کام آتا تھا، اس کے ذریعہ آپ نے بنگلور میں منعقدہ یس آئی او کے پہلے کل ہند اجتماع کی ریکارڈنگ بھی محفوظ کی تھی۔

ہمارا  مزاج پہلے سے ان چیزوں کے حصول ان کی ترتیب و ایڈیٹنگ تک محدود تھا، ان کی ترویج و اشاعت  کی ذمہ داری دوسرے احباب کرتے تھے، لہذا ہم نے ابتدا ہی سے ویڈیو وغیرہ سے وابستہ تنازعات سے خود کو دور رکھا، کوئی عالم دین راضی ہوا تو اس کی ویڈیو بنالی، ورنہ آڈیو ریکارڈنگ ہی پر اکتفا کیا۔

لیکن مرحوم کا یہ مزاج نہیں تھا، وہ ان کی ترویج میں بڑے جذباتی ہوجاتے تھے، ۱۹۸۷ء کی بات ہے،  مرحوم کو خواہش ہوئی کہ مولانا مودودی کے ویڈیو کی بھٹکل میں نمائش ہونی چاہئے، اور آپ نے شمس نرسری اسکول ، بستی روڈ  میں عامۃ الناس کے لئے  اس ویڈیو کی نمائش کا  پروگرام کیا، اور اس کا اعلان رکشا کے ذریعہ پورے شہر میں اس کا اعلان عام  بھی کردیا، قاضی جماعت المسلمین بھٹکل کے سامنے کسی نے اس کی شکایت کردی، اور جماعت کی کمیٹی نے اس ناچیز کو سمن جاری کردیا ،  جواب دہی کی اس مجلس میں  محترم قاضی صاحب کے ساتھ  ، جناب محتشم عبد الغنی (قائد قوم ، سابق صدر انجمن حامی مسلمین   بھٹکل)  ، اور مولانا عبد العزیز خلیفہ ندوی ( نائب مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماءلکھنو) جیسی موقر شخصیات موجود تھیں۔   میں نے ان حضرات  سے  بارہا کہا کہ اس ویڈیو کی ترتیب تو میری ہے، لیکن اس کی  بھٹکل میں نمائش کے اعلان سے میرا تعلق نہیں ہے، لیکن  جماعت نے میری بات نہیں سنی، اور ، مجھ ہی  پر اسے روکنے کی ذمہ داری ڈالی، اس وقت میں نے کمیٹی  سامنے سے چند ایسے سخت سوالات پیش کئے تھے  جن کی عام طور پر وضاحت ممکن نہیں ہوا کرتی، لیکن جماعت کا احترام کرتے ہوئے اس پروگرام کو روکنے کے لئے کوشش کرنے کی  ذمہ داری لے لی، اس وقت میرے سرپرست اور تایا الحاج محی الدین منیری مرحوم منی پال اسپتال میں داخل تھے، وہ مثانے کے کینسر کا علاج کررہے تھے، میرا خیال تھا کہ انہیں اس واقعہ کا علم نہیں ہے، لیکن انہوں نے خود سے استفسار کیا، اور کہا کہ آپ کو جواب دینا  ان حضرات کے بس کی بات نہیں، اور پھر نصیحت کی کہ  جماعتی پلیٹ فارم پر بڑوں کے سامنے اس طرح جوابات نہیں دینے چاہئیں ،  بڑوں کے مرتبے اور ادب کا خیال رکھنا چاہئے۔   منیری صاحب کا پھر اصرار بڑھتا رہا کہ میں کسی نظریاتی تنظیم سے وابستہ  رہ کر خود کو محدود نہ رکھوں، بلکہ آزاد رہ کر سب سے تعاون جاری رکھوں، اس کے بعد ساتھیوں سے چند ایسی شکایتیں پیش آئیں، جنہوں نے  آٹھ سال کی نظامت کے بعد جمعیت سے علحدگی پر مجبورہمیں مجبور کیا،  اپنی ساری محنت  تیار کردہ مواد بھی چھوڑ دیا، جمعیت بھی ایک دو سال بعد ختم ہوگئی، اور تقریبا دس بارہ سال تک ہم نے آڈیو اور ویڈیو میں دلچسپی محدود کردی۔  مرحوم سے تعلقات میں چند دنوں تک سردمہری رہی، پھر حالات پرانی ڈگر  پر آگئے، تعلق و روابط میں وہی بے ساختگی اور محبت لوٹ آئی، مرحوم کی شخصیت ایسی تھی کے اختلافات رائے کے باوجود ان سے نباہ کرنا اور اپنی بات کرنا ممکن ہوتا تھا۔

یاد پڑتا ہے کہ  اس کے چند دنوں بعد ہم لوگوں کی ایک پکنک ہوئی تھی، جس میں مولانا مقبول احمد کوبٹے (حال مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل ) وغیرہ شریک تھے، جامعہ آباد کے پڑوسی قصبے تینکگنڈی کے بالمقابل ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے کوٹٹا گوڑو کKotta Gudo کہتے ہیں،  یہاں سپاٹ میدان اور کم اونچائی کی چٹانوں کے علاوہ کوئی سایہ دار جگہ نہیں  پائی جاتی ہے، رات دس بجے کے بعد جب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، تو اچانک بادلوں کے ٹکرانے کی کڑاکے دار گھن گرج اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے وا  لی بجلیوں کے ساتھ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش برسنے لگی، جو دو تین گھنٹوں تک مسلسل جاری رہی، سامنے نہ سر چھپانے کی جگہ تھی نہ کوئی آسرا، اگر یہ موسم سمندر کے بجائے کسی دریا میں ہوتا، تو جزیرہ پانی میں ڈوب گیا ہوتا، ایک قیامت کا منظر تھا، جو دلوں کو دہلا  رہا تھا، ذہن میں زندگی میں  سرزد ہونے والے اور انہونے گناہ یاد آرہے تھے، اس وقت مرحوم نے  بہت دیر تک رو رو کر اور ڈھاریں مار مار کر جو اجتماعی  دعائیں کی تھیں، تیس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود نظروں سے اوجھل نہیں ہوئیں۔دل  ملامت کررہا ہے کہ جس فرد کو ہم نے تند وتیز سمجھا تھا، وہ اندر سے کتنا نرم ، ناریل کے گودے کی مانند ملائم تھا۔

مرحوم اب اس دربار میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپس کوئی نہیں لوٹتا، اب ان کی زندگی پورا حساب وہیں پر ہوگا، اللہ کی ذات بہت غفور رحیم ہے، یقین ہے کہ ان کے حسنات سیئات پر غالب ہونگے، اور انہیں نیک اعمال کی بہترین جزاء ملے گی۔ ان کی یاد مد توں آئے گی، اور ان شاء اللہ بلند درجات کی دعاء کے لئے ہاتھ بلند ہوتے رہیں گے ، ان شاء اللہ

WA: 00919008175269

2026-03-26