Sachchi Batatain. Insan ki Ba Basi
اگرآپ کی گھڑی چلتے چلتے بند ہوجائے ،یا وقت غلط دینے لگے، تو کوئی صورت بجز گھڑی ساز کی مدد کے، اُس کی اصلاح کی ہے؟ سائیکل اگر تھوڑی بہت کبھی ٹوٹ ٹاٹ جائے، تو جب تک سائیکل ساز ہی مرمت نہ کرے، آپ مجبور محض رہیں گے یا نہیں؟ موٹر کار کا کوئی پُرزہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، نکل جائے، گھِس جائے، تو جب تک موٹر ساز ہی کا ہاتھ نہ لگے، آپ کی ساری عقل وذہانت بیکار رہے گی یا نہیں؟ ……یہ سب معمولی مشینیں ہیں، انسان ہی کی ایجاد کی ہوئی، آپ ہی کے بھائی بندوں کی بنائی ہوئی، لیکن ان کی ترتیب میں، ترکیب میں، بناوٹ میں، صناعت میں، ذرا سا بھی فرق پڑجاتاہے، تو انسان کا علم وفضل ، عقل کی رسائی اور فکر کی فلک پیمائی سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، تاوقتیکہ کسی ماہر فن کی، ماہرخصوصی کی خدمات اعانت نہ حاصل کرلی جائیں۔ بشر کی یہ محتاجی اور بے بسی ، بشری صنعتوں اور صناعتوں ہی سے متعلق روزمرہ کا تجربہ ہے، اور ہروقت کا مشاہدہ۔
پھر جسم انسانی تو خالق کائنات کی کاریگری کا نمونہ ہے، اور حُسن صنعت کا وہ معجزہ کہ جہاں تک انسانی ادراک اور بشری عقل پہونچ بھی نہ پائے ۔ اس صناع اعظم کی کاریگری میں ادنیٰ سی ادنی دخل دینے کی ہمت وجرأت کسی مخلوق میں، یا ساری مخلوق میں مل کر بھی ہوسکتی ہے؟ جسم انسانی میں قدرتی نظام کا قائم کیا ہوا ایک ریشہ بھی اگر جگہ سے بے جگہ ہوجائے، تو کس کی مجال ہے کہ اس میں ہاتھ لگاسکے؟ خاک کے بنے ہوئے پُتلے الگ رہے، نور کے بنے ہوئے فرشتے تک اُس کی بارگاہ میں کس نیاز وشکستگی کے ساتھ اپنے جہل اور اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہیں:-
سبحانک لا علم لنا الا ما علّمتنا انک أنت العزیز الحکیم۔
ہر قسم کے عیب اور نقصان سے پاک اور بالاتر توآپ ہی کی ذات ہے، اے ہمارے مالک ومولا! ہمیں علم ہی کیا، ہمیں علم سے واسطہ ہی کیا۔ ہاں آپ ہی نے اپنے فضل وکرم سے تھوڑا بہت علم جو ہمیں عطا کردیاہے ، تو اس کی بات ہی اور ہے۔ اختیار والے اور حکمت والے تو صرف آپ ہی ہیں، کہ جس کے لئے جتنا علم قرین مصلحت ہوتاہے، اُس سے اُسے محروم نہیں رکھتے!
یہ محض اُسی کا لطف بے پایاں اور کرم بے حساب ہے کہ اُس نے انسان کو بھی کچھ قدرے قلیل دخل دواسازی اور جرّاحی میں دے دیا، اور اس سے انسان اِس قابل ہوگیا، کہ اُس کی مشیّت اور قانون تکوینی کے ماتحت کچھ علاج معالجہ انسانوں کا کرلینے لگا، ورنہ اس کی کیا بساط تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے پُرزے سے متعلق ہی طبع آزمائی کرسکے!
مریض اسپتال میں داخل ہوتاہے۔ خلق کا عضلہ پانی کے داخلہ کوبند کرچکاہے۔ پیاس سے تڑپ رہاہے۔ ایک گھونٹ پانی کا نہیں اُترپاتاہے۔ تیماردارون کو لَو ڈاکٹر سے لگی ہوئی۔ جاہل اور غافل انسان !اپنی عقل وتدبیر پر نازاں اور اپنے فنّی تجربہ پر مغرور ڈاکٹر فورًا تدبیر شروع کردیتے ہیں۔ نلکی کے ذریعہ سے پانی اتارنا چاہتے ہیں۔ ناک کا سوراخ ، یہ سوراخ وہ سوراخ، خداجانے کتنی کوششیں کرڈالنے اور بالآخر تھک چکتے ہیں!جب مشیت پانی کی راہ بند کردے، تو کوئی بھی دروازہ اس کے لئے کھولا جاسکتاہے؟ مریض وہیں طبیب کے سامنے جاں بحق ہوجاتاہے، الزام طبیب کے سرآتاہے۔ نادان انسان! گویا زندگی اور صحت، طبیب کے نسخوں اور سرجری کے آلات کی محکوم ہے!……شکایت اس کی کیوں کیجئے، کہ اتنے مریض جانبر نہ ہوئے۔ شکر اس کا کیجئے کہ آخر اتنے مریض تو شفایاف ہوگئے!یہ محض اُسی کی کریمی اوراُسی کی ستّاری ہے، جو فلاں سرجن جنرل اور فلاں حاذق الملک بنے نظرآرہے ہیں، ورنہ انسان بیچارہ کی یہ مجال بھی تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے ، حقیر سے حقیر، خلل میں بھی دخل دے سکے!