Kia Shaikh Aaindha sal tak Meri Zindgi (33)

Abdul Mateen Muniri

Published in - Yadaun Kay Chiragh

01:00AM Wed 26 Feb, 2025

کیا شیخ آئندہ سال تک میری زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں ؟

شیخ ابن باز رحمہ اللہ علیہ ایک اللہ والے بزرگ تھے۔ ان کی محفل میں ایک روحانی فضا چھائی ہوئی رہتی تھی۔ اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خوف طاری ہو جاتا تھا۔ شیخ کا ہر لمحہ مسلمانوں کی خدمت میں کہتا تھا۔

1969 میں جب میں اسلامی یونیورسٹی کے اسٹاف میں شامل ہوا، وہ اس وقت یونیورسٹی کے مدیر تھے۔

میں یونیورسٹی میں غیر عربی طلبہ کو عربی پڑھانے کے پروگرام سے منسلک تھا۔ ان دنوں کچھ نو مسلم کوریائی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ ان میں سے ایک کا نام قمر الدین تھا۔ اس نے بتایا کہ جنوبی کوریا کے پائے تخت سیئول میں ایک بڑی خوبصورت مسجد بنی ہے۔ لوگ جمعہ کے دن کام کرتے ہیں، اس لیے وہ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد نہیں آسکتے ۔ اکثر مسلمان اتوار کے دن مسجد آتے ہیں اور مسجد میں دین کی باتیں سیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ مسجد کے باغ میں بیٹھ کر شراب بھی پیتے ہیں۔

یہ آخری جملہ سن کر میں بہت رنجیدہ ہو گیا۔ میں اٹھ کر فورا شیخ ابن باز کے دفتر گیا۔ میری طرز گفتگو سے شیخ کو اندازہ ہو گیا کہ میں ایک ہیجانی کیفیت سے گزر رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے صبر کی تلقین کی۔ پھر آنے کا سبب پوچھا۔ میں نے ان کو کوریا کی مسجد والی بات بتائی۔ میں گفتگو کے دوران بہت agitated تھا۔ شیخ نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا: «علی كل حال، المعصية أخف من الكفر ، يعني: "بہر حال معصیت کفر سے کم درجہ کی نافرمانی ہے "۔ پھر اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا: یہ لوگ کافر تھے اور اللہ تعالٰی کے فضل وکرم سے یہ مسلمان ہوئے۔ اب لا علمی کی وجہ سے ان سے گناہ کے کام سرزد ہو رہے ہیں۔ جب ان کو صحیح علم مل جائے گا تو وہ ان شاء اللہ ان گناہوں سے باز آجائیں گے۔

شیخ کی ان حکیمانہ باتوں سے میرا غم چھٹ گیا۔ اور میں نہایت اطمینان کے ساتھ کلاس واپس آگیا۔

ایک دن میں پڑھارہا تھا، شیخ کے دفتر سے بلاوا آیا۔ جب میں شیخ کے دفتر پہنچا تو دیکھا کہ شیخ کے ساتھ ایک امریکی نوجوان بیٹھا ہوا ہے۔ شیخ نے مجھ سے کہا: ان کو بتادو کہ جامعہ میں داخلہ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ یہ اپنی درخواست آئندہ سال جمع کرائیں۔

جب میں نے یہ بات درخواست گزار کو بتائی تو اس نے کہا: شیخ سے پوچھو کہ کیا وہ آئندہ سال تک میری زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں ؟ اگر میں اسلام جانے بغیر مر جاؤں تو اسلام سے میری لاعلمی کا ذمہ دار کون ہو گا؟ جب میں نے شیخ کو اس کا ترجمہ بتایا تو وہ رو پڑے۔ انہوں نے نوجوان سے اس کے کاغذات لے لیے اور دفتر والوں سے کہا کہ فوراً اس کا داخلہ کرا دیا جائے۔

شیخ اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کہ دعاۃ کو کسی وجہ سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ حرم شریف کے بالکل سامنے تصویروں کو فریم لگانے کی ایک دکان تھی۔ ایک دن میں نے اس دکان میں ایک بڑی فریم شدہ تصویر دیکھی۔ اس میں جو تصویر تھی وہ وہی تصویر تھی جو دنیا بھر کے عیسائیوں کے یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی تصویر مانی جاتی ہے۔

یہ ایک خطر ناک بات تھی۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ نہ تو تصویر کے مالک کو، اور نہ فریم کرنے والے کو ہی اس بات کا علم تھا۔ بہر حال میں نے اس بارے میں شیخ ابن باز کو خط لکھا اور خط کے آخر میں اپنا نام لکھ دیا۔ شیخ نے خط پڑھنے کے بعد کہا: تم اپنا نام ہٹادو اور اس کی جگہ " ایک خیر خواہ " یا اس قسم کی کوئی عبارت لکھ دو۔

پھر شیخ نے اپنے دفتر کے ایک ڈرائیور کو میرے ساتھ روانہ کیا۔ مجھے کچھ احتیاطی تدابیر بتائیں۔ کہا: تم فریم کی دکان سے بہت دور کھڑے ہو کر اس کی نشاندہی کرنا۔ دکان کا محل وقوع وصف کے ذریعہ بتانا، اور اس کی طرف انگلی سے اشارہ مت کرنا۔

سبحان اللہ! ایک volunteer کی حفاظت کا اتنا خیال اور اس کے لیے اتنی احتیاط اور اتنا جتن! دراصل یہ قرآن کریم کی تعلیم کی عکاسی ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالی نے قرض دار اور قرض خواہ کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں بہت سارے تفصیلی احکامات بتائے ہیں۔ اور اس ضمن میں گواہوں اور قرض کی دستاویز لکھنے والوں کے حقوق کی حفاظت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: (وَلَا يُضَارُ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ، فَسُوقُ بِكُمْ ) [البقرة: 282] یعنی: اس کا خیال رکھا جائے کہ نہ تو دستاویز نویس کو اور نہ گواہ کو کوئی نقصان پہنچنے پائے اور اگر تم سے ان کو نقصان پہنچانے والا کوئی تصرف سرزد ہو تو یہ (فرمان الہی کی) مخالفت ہو گی۔ ان کی وفات کے بعد اس عظیم شخصیت کو لوگ امام ابن باز کے نام سے یاد کرتے ہیں۔