Insani ilm Ki bay basi

Abdul Majid Daryabadi

Published in - Sachchi Batain

08:05AM Sun 8 Mar, 2026

 امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:-

’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی مسائل کی گتھیاں کھول دی ہیں، تاہم اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم آخری مسائل کے حل کے کچھ بھی قریب آگئے ہیں۔ فطرت کاعلم جوں جوں ہمیں زائد ہوتاجاتاہے، اپنا جہل بھی ہم پر زیادہ منکشف ہوتاجاتاہے‘‘۔ (جلد 8، ص: 5012)

لیجئے ، جس سائنس کا اتنا غلغلہ تھا، کہ اس نے فطرت کے سارے اسرار ایک ایک کرکے بے نقاب کرڈالے ہیں، اور مذہب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، اس کی کائنات کُل اتنی نکلی! حشرونشر، حوروملک، جنت ودوزخ، کا عدم وجود’’ثابت‘‘ کردینا، ان کی نفی پر کوئی دلیل قائم کردینا الگ رہا، اس فریب کو تو ابھی زمان ومکاں، حدوث وقدم، مادّہ وروح، ہی کے پُرانے چکّروں اور اُلجھاوؤں سے فرصت نصیب نہیں!

اعترافِ عجز ابھی ختم نہیں ہوا، اور آگے چلئے:-

’’ہر مسئلہ جو حل ہوتاہے، وہ نئے نئے مسائل کاآغاز کردیتاہے، جو پہلے کبھی خیال وگمان میں بھی نہیں آئے ہوتے ہیں۔ نامعلوم (یا مغیبات) کا دائرہ غیرمحدود ہے، بہ خلاف اس کے معلوم (یا مشہودات) کادائرہ وسیع کتنا بھی ہو، بہرحال محدود ہی ہے۔ بنیادی مسائل کے حل کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں طالیسؔ، اور فیثاغورثؔ تھے۔ بنیادی مسائل کی تلاش ہی ایک مریض ذہنیت کی علامت ہے‘‘۔ (ایضًا)

ہزارہا سال کی فلسفیانہ کاوشوں اور عقلی موشگافیوں کا ماحصل، اور پوری ایک صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقیوں کا نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا؟ بے بسی کا اعتراف خود فلسفہ کے ماہروں اور سائنس کے اُستادوں کی زبان سے سُن لیا؟……یہ کتنا مختلف ہے اُن دعوؤں سے، جو ابھی کوئی پچاس برس اُدھر، کس زوروشور سے کئے جارہے تھے، کہ سائنس نے ’’ثابت کردیا ہے‘‘ کہ نہ عرش کوئی چیز ہے نہ کُرسی، نہ جنت کا وجود ہے نہ دوزخ کا، اور (نعوذ باللہ) نہ اللہ میاں کوئی چیز ہیں، نہ رسالت ونبوت!

اور یہ آواز کتنی مشابہ ومماثل ہے اُس سبق کے جو ساڑھے تیرہ سو برس پہلے دیاگیاتھا، اور کیسی دلنشیں شرح ہے اُس متن کی جو صدیوں پیشتر سنادیا گیاتھا، کہ

وما أوتیتم من العلم الّا قلیلا۔

علم بشری کی کُل بساط وکائنات ہی کیا ہے؟ اور یہ نئی حکمتِ ، کس طرح لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف، ہماری پُرانی شاعری کی ترجمانی کررہی ہے کہ

فلسفی سرِ حقیت نتوانست کشود

گشت رازِ دگر آں راز کہ افشامی کرد!

فطرت کے قوانین چمکے، اور جھوٹ کھُل گیا ملؔکا، اور ہکسلیؔ کا، اور اگسٹؔ کا ،وما وعد الشیطان الاغرورًااور اُس برے فریبئے کے وعدے تو جھوٹ نکلنے ہی تھے۔

اور فطرت کے مالک وحاکم نے سچا کردکھایا، ابو حامد غزالیؒ کو، اور ولی اللہ دہلویؒ کو اور اشرف علی تھانویؒ کو……صرف ہنسے جانے کے قابل، صرف روئے جانے کے قابل، صرف ترس کھائے جانے کے قابل ہے اُن بیچاروں کا حال جو اِدھر اُدھر سے کچھ باتیں سُن سُنا کر، آج بھی اپنی ’’نیچریت‘‘ اور ’’روشن خیالی‘‘ کو کوئی فخر کی چیز سمجھ رہے ہیں، پچاس ساٹھ سال قبل کے آموختہ کو رٹے جاتے ہیں، اور اُترے ہوئے ڈھول کو دنوں ہاتھوں سے پیٹے چلے جارہے ہیں!